— فائل فوٹو

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے لیاری میں عمارت گرنے کے واقعے پر حکومت سندھ کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔

کراچی کے علاقے لیاری میں عمارت گرنے کے سانحے پر ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے پریس کانفرنس کی۔ 

اس موقع پر ارشد وہرہ نے واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہر میں درجنوں عمارتیں خستہ حال ہیں، مگر سندھ حکومت صرف تماشائی بنی ہوئی ہے۔

ارشد وہرہ نے کہا کہ کراچی کے شہریوں کو نظر انداز کیا جارہا ہے جبکہ مخدوش عمارتوں کے متاثرین بے یار و مددگار ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ کراچی سندھ حکومت سے نہیں سنبھل رہا، ایس بی سی اے کا نام کے بی سی اے ہونا چاہیے۔

لیاری، عمارت گرنے کا واقعہ، مقدمہ درج، ایس بی سی اے کے 5 افسران گرفتار

کراچی لیاری بغدادی میں گرنے والی عمارت کے المناک.

..

ان کا مزید کہنا تھا کہ سیلاب متاثرین کے لیے گھروں کا وعدہ کرنے والی حکومت کراچی کے بے گھر شہریوں کے لیے کوئی ہاؤسنگ اسکیم نہیں لائی۔ 

ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ مخدوش عمارتوں کے حوالے سے ایک کمیٹی بنائی جائے جس میں عوامی نمائندے بھی ہوں۔

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

پڑھیں:

کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے

کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔ 

محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔ 

مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔

محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔

جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ 

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن