کراچی میں درجنوں عمارتیں خستہ حال ہیں، سندھ حکومت صرف تماشائی بنی ہوئی ہے، ارشد وہرہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, July 2025 GMT
— فائل فوٹو
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے لیاری میں عمارت گرنے کے واقعے پر حکومت سندھ کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔
کراچی کے علاقے لیاری میں عمارت گرنے کے سانحے پر ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے پریس کانفرنس کی۔
اس موقع پر ارشد وہرہ نے واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہر میں درجنوں عمارتیں خستہ حال ہیں، مگر سندھ حکومت صرف تماشائی بنی ہوئی ہے۔
ارشد وہرہ نے کہا کہ کراچی کے شہریوں کو نظر انداز کیا جارہا ہے جبکہ مخدوش عمارتوں کے متاثرین بے یار و مددگار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کراچی سندھ حکومت سے نہیں سنبھل رہا، ایس بی سی اے کا نام کے بی سی اے ہونا چاہیے۔
کراچی لیاری بغدادی میں گرنے والی عمارت کے المناک.
ان کا مزید کہنا تھا کہ سیلاب متاثرین کے لیے گھروں کا وعدہ کرنے والی حکومت کراچی کے بے گھر شہریوں کے لیے کوئی ہاؤسنگ اسکیم نہیں لائی۔
ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ مخدوش عمارتوں کے حوالے سے ایک کمیٹی بنائی جائے جس میں عوامی نمائندے بھی ہوں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔