تھر کا کوئلہ کئی دہائیوں تک پاکستان کی بجلی کی ضروریات پوری کر سکتا ہے؛ شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
سٹی 42 : سینئر صوبائی وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ سندھ کے پاس ملک کو توانائی کے بحران سے نکالنے کیلئے وافر وسائل موجود ہیں۔تھر کا کوئلہ کئی دہائیوں تک پاکستان کی بجلی کی ضروریات پوری کر سکتا ہے۔
شرجیل میمن نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ وفاقی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے سندھ کے توانائی کے شعبے کی ترقی متاثر ہو رہی ہے، صوبے کو اختیار اور سہولیات فراہم کی جائیں تو توانائی کے شعبے میں انقلاب لایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیک ہولڈرز صوبے کے وسیع توانائی ذخائر اور پائیدار توانائی کے حل پر بات کریں، 6 برسوں کے دوران 30 ملین ٹن کوئلہ مختلف آزاد پاور پروڈیوسرز کو فراہم کیا گیا، کوئلے سے 31 گیگا واٹ بجلی پیدا کی گئی تقریباً 30 لاکھ گھروں کو بجلی مہیا ہوئی۔
مزید بارشیں،مون سون سے متعلق بڑی پیشگوئی
شرجیل میمن نے بتایا کہ تھر کا کوئلہ کئی دہائیوں تک پاکستان کی بجلی کی ضروریات پوری کر سکتا ہے، سندھ حکومت کی کاوشوں سے 105 کلو میٹر طویل ریلوے لائن تعمیر کی جا رہی ہے جو تھر کول کو قومی اور عالمی منڈیوں سے جوڑ دے گی، نوری آباد پاور پروجیکٹ اس وقت کراچی کو 100 میگا واٹ بجلی فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے سولر انرجی منصوبوں کیلیے 2.
لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب کشمیری آج یومِ شہدائے کشمیر منا رہے ہیں
شرجیل میمن نے کہا کہ وفاقی حکومت صوبے کے منصوبوں کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرے، وفاقی حکومت سندھ کے سولر اور ونڈ پاور منصوبوں کی مخالفت بند کرے، توانائی کی ضروریات پوری کرنے کیلیے صوبائی حکومت کے ساتھ تعاون کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ صوبے بھر میں غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کے خلاف کارروائی جاری ہے، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے صرف سکھر میں 37 خطرناک عمارتوں کو نوٹس جاری کیے ہیں، کراچی، حیدر آباد، لاڑکانہ اور نوابشاہ میں بھی عمارتوں کی جانچ پڑتال جاری ہے، غیر قانونی تعمیرات میں ملوث افسران کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔
اسرائیل میں یرغمالیوں کی رہائی کیلئے بہت بڑااحتجاج
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کی ضروریات پوری کر شرجیل میمن نے توانائی کے سکتا ہے رہی ہے کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔