سٹی 42 : سینئر صوبائی وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ سندھ کے پاس ملک کو توانائی کے بحران سے نکالنے کیلئے وافر وسائل موجود ہیں۔تھر کا کوئلہ کئی دہائیوں تک پاکستان کی بجلی کی ضروریات پوری کر سکتا ہے۔ 

شرجیل میمن نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ وفاقی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے سندھ کے توانائی کے شعبے کی ترقی متاثر ہو رہی ہے، صوبے کو اختیار اور سہولیات فراہم کی جائیں تو توانائی کے شعبے میں انقلاب لایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیک ہولڈرز صوبے کے وسیع توانائی ذخائر اور پائیدار توانائی کے حل پر بات کریں، 6 برسوں کے دوران 30 ملین ٹن کوئلہ مختلف آزاد پاور پروڈیوسرز کو فراہم کیا گیا، کوئلے سے 31 گیگا واٹ بجلی پیدا کی گئی تقریباً 30 لاکھ گھروں کو بجلی مہیا ہوئی۔

 مزید بارشیں،مون سون سے متعلق بڑی پیشگوئی  

شرجیل میمن نے بتایا کہ تھر کا کوئلہ کئی دہائیوں تک پاکستان کی بجلی کی ضروریات پوری کر سکتا ہے، سندھ حکومت کی کاوشوں سے 105 کلو میٹر طویل ریلوے لائن تعمیر کی جا رہی ہے جو تھر کول کو قومی اور عالمی منڈیوں سے جوڑ دے گی، نوری آباد پاور پروجیکٹ اس وقت کراچی کو 100 میگا واٹ بجلی فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے سولر انرجی منصوبوں کیلیے 2.

5 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا ہے، تھر کے مستحق رہائشیوں کیلئے 200 یونٹ تک بجلی کے بل بھی صوبائی حکومت ادا کر رہی ہے، کراچی کیلیے دو نئے سولر پارکس کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب کشمیری آج یومِ شہدائے کشمیر منا رہے ہیں

شرجیل میمن نے کہا کہ وفاقی حکومت صوبے کے منصوبوں کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرے، وفاقی حکومت سندھ کے سولر اور ونڈ پاور منصوبوں کی مخالفت بند کرے، توانائی کی ضروریات پوری کرنے کیلیے صوبائی حکومت کے ساتھ تعاون کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ صوبے بھر میں غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کے خلاف کارروائی جاری ہے، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے صرف سکھر میں 37 خطرناک عمارتوں کو نوٹس جاری کیے ہیں، کراچی، حیدر آباد، لاڑکانہ اور نوابشاہ میں بھی عمارتوں کی جانچ پڑتال جاری ہے، غیر قانونی تعمیرات میں ملوث افسران کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔

اسرائیل میں یرغمالیوں کی رہائی کیلئے بہت بڑااحتجاج

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: کی ضروریات پوری کر شرجیل میمن نے توانائی کے سکتا ہے رہی ہے کہا کہ نے کہا

پڑھیں:

پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز

اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔

دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔

توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ