بجلی کے پیک آورز کے دورانیے میں اضافے سے متعلق پاور ڈویژن کا اہم بیان سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
ترجمان پاور ڈویژن کی جانب سے بجلی کے پیک آورز کے دورانیے میں اضافے کی خبروں پر وضاحت سامنے آئی ہے۔
اپنے ایک بیان میں وزارت توانائی (پاور ڈویژن) نے بجلی کے اوقات کار میں نظر ثانی کے بارے میں گردش کرنے والے دعوئوں کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ موجودہ شیڈول میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک پوسٹ میں وزارت پاورڈویژن نے واضح کیا کہ صبح کے اوقات کو پِک ٹائم بریکٹ میں شامل کرنے کی رپورٹس مکمل طور پر غلط ہیں اور ایسی گردش کرنے والی معلومات کو "جعلی خبروں اور قابل عمل غلط معلومات” قرار دیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ اوقات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، حکام نے عوام پر زور دیا کہ وہ درست معلومات کے لیے صرف سرکاری ذرائع پر بھروسہ کریں اور خبردار کیا کہ اس طرح کے جھوٹ کے پھیلاؤ سے کنفیوژن پھیل سکتی ہے اور اس سے متعلقہ قانونی دفعات کے تحت نمٹا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔