بھارتی ٹیلی ویژن کے مشہور سٹکام ’تارک مہتا کا الٹا چشمہ‘ کے کردار دلیپ جوشی (جیٹھا لال) کے شو چھوڑنے کی افواہیں ایک بار پھر زور پکڑ رہی ہیں جس پر ڈرامے کے پروڈیوسر اسیت مودی نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ دلیپ جوشی ذاتی وجوہات کی بنا پر ڈرامے سے غیر حاضر ہیں۔

اسِت مودی نے حال ہی میں شو سے متعلق پھیلنے والی منفی خبروں پر بات کی اور’گمراہ کن‘ خبروں پر مایوسی کا اظہار کیا۔ انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ دلیپ جوشی اب بھی شو کا حصہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جب بھی ’تارک مہتا کا الٹا چشمہ‘ سے متعلق کوئی خبر آتی ہے، تو وہ فوراً توجہ حاصل کرتی ہے۔ بعض اوقات شو کے بارے میں گمراہ کن باتیں لکھی جاتی ہیں، لیکن میں ان پر زیادہ دھیان نہیں دیتا۔ اگر میں ہر افواہ کا جواب دینا شروع کر دوں تو یہ کبھی ختم نہیں ہوں گی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں بھی مقبول بھارتی کامیڈی شو ’تارک مہتا کا الٹا چشمہ‘ کے تاریک پہلو

پروڈیوسر نے کہا کہ حال ہی میں دلیپ جوشی (جیٹھا لال) کچھ وقت کے لیے شو میں نظر نہیں آئے کیونکہ ان کی کچھ ذاتی کمٹمنٹس تھیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ انہوں نے شو چھوڑ دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کہانی کا ہر وقت ایک ہی کردار کے گرد گھومنا ممکن نہیں ہوتا۔ لوگ اندازے لگانا شروع کر دیتے ہیں، لیکن میں کہانی پر فوکس کرتا ہوں اور ان افواہوں کو نظر انداز کرتا ہوں۔

اسِت مودی نے دایابین یعنی دیشا وکانی کی ممکنہ واپسی پر بھی بات کی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ لوگ اس کردار سے بے پناہ محبت کرتے ہیں، مگر کسی بھی کردار کی واپسی کے لیے درست وقت، کہانی اور لمحہ ہونا ضروری ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سمرتی ایرانی کی ’کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی‘ میں واپسی، ڈرامہ کب نشر ہو گا؟

دایابین کو شو میں آخری بار دیکھے ہوئے آٹھ سال ہو چکے ہیں۔ اس کے باوجود شو اپنی مقبولیت برقرار رکھے ہوئے ہے اور ریٹنگ چارٹس میں اب بھی سرفہرست ہے۔ فی الحال شو ایک بھوت پر مبنی کہانی پر چل رہا ہے، جو ناظرین کو اپنی طرف متوجہ کیے ہوئے ہے۔

واضح رہے کہ  تارک مہتا کا الٹا چشمہ طویل عرصے تک چلنے والا شو ہے اور اسےبہت پسند کیا جاتا ہے۔ گزرے سالوں کے دوران اس شو کی کاسٹ میں متعدد تبدیلیاں ہوئیں اور بہت سے اداکار شو چھوڑ گئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

است مودی انڈین ڈرامہ تارک مہتا کا الٹا چشمہ جیٹھا لال دلیپ جوشی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: انڈین ڈرامہ تارک مہتا کا الٹا چشمہ دلیپ جوشی تارک مہتا کا الٹا چشمہ دلیپ جوشی انہوں نے

پڑھیں:

تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف