ٹیسلا اور جنوبی کوریا کی ایل جی انرجی سلوشن میں 4.3 ارب ڈالر کا معاہدہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
سیئول(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 30 جولائی2025ء)جنوبی کوریا کی کمپنی ایل جی انرجی سلوشن(ایل جی ای ایس)نے امریکی الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنی ٹیسلا کے ساتھ 4.3 ارب ڈالر مالیت کا معاہدہ کیا ہے جس کے تحت ایل جی انرجی سلوشن ٹیسلا کو انرجی سٹوریج سسٹم کے لیے بیٹریاں فراہم کرے گی۔برطانوی ٹی وی نے ایل جی انرجی سلوشن کے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ یہ اقدام امریکی کمپنی کی جانب سے چینی درآمدات پر انحصار کم کرنے کے تحت اٹھایا گیا ہے۔
(جاری ہے)
ذرائع کے مطابق لیتھیم آئرن فاسفیٹ (ایل ایف پی)بیٹریاں ایل جی ای ایس کی امریکی ریاست مشی گن میں واقع فیکٹری سے فراہم کی جائیں گی۔ کمپنی نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ اس نے عالمی سطح پر 3 سال کے دوران ایل ایف پی بیٹریوں کی فراہمی کے لیے 4.3 ارب ڈالر کا معاہدہ کیا ہے تاہم یہ نہیں بتایا کہ بیٹریاں گاڑیوں میں استعمال کی جائیں گی یا توانائی ذخیرہ کرنے والے نظام میں استعمال ہوں گی۔ایل جی ای ایس نے رائٹرز کو بتایا کہ معاہدہ جاتی رازداری کی شرائط کے تحت صارف کا نام ظاہر نہیں کر سکتے تاہم ٹیسلا نے اس پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ایل جی انرجی سلوشن
پڑھیں:
بھارت کا سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنا اشتعال انگیز ہے، اسحاق ڈار
منیلا میں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ اسلام ٹائمز۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ بھارت کا سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنا تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے۔ منیلا میں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے، سندھ طاس معاہدے سے متعلق یکطرفہ اقدامات 25 کروڑ پاکستانیوں کے مفادات کو متاثر کرسکتے ہیں۔ نائب وزیر اعظم کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی عمل نے خطے میں امن کے لیے ایک اہم موقع فراہم کیا، تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کریں، افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔