اسٹیٹ بینک نے نئے کرنسی نوٹوں کا ڈیزائن منتخب کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
اسٹیٹ بینک نے نئے کرنسی نوٹوں کا ڈیزائن منتخب کرلیا WhatsAppFacebookTwitter 0 30 July, 2025 سب نیوز
کراچی(سب نیوز)اسٹیٹ بینک نے نئے کرنسی نوٹوں کا ڈیزائن منتخب کرلیا۔یہ بات گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کراچی میں شرح سود برقرار رکھنے کی پریس کانفرنس کے دوران میڈیا کو بتائی۔
گورنر نے بتایا کہ نئے کرنسی نوٹ لانے کا عمل جاری ہے جس کے لیے ڈیزائن کا انتخاب کرلیا گیا ہے، ایک بین الاقوامی ماہر کا ڈیزائن منتخب کیا گیا ہے۔گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے مزید بتایا کہ کابینہ کی منظوری کے بعد نئے ڈیزائن کے نوٹوں پر کام شروع کردیں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسٹیٹ بینک کا شرح سود کو برقرار رکھنے کا اعلان مایوس کن اور حکومت کی معیشت کے حوالے سے بدترین پالیسیوں کا آئینہ دارہے، سابق نائب صدر ایف پی سی سی آئی زاہد اقبال چوھدری اسٹیٹ بینک کا شرح سود کو برقرار رکھنے کا اعلان مایوس کن اور حکومت کی معیشت کے حوالے سے بدترین پالیسیوں کا آئینہ دارہے،... نیشنل پریس کلب اور سی ڈی اے کی ملکر سرسبز اسلام آباد مہم کے تحت ون ملین درخت لگانے کی مہم کا آغاز پھپھو کی خواہش پوری نہ ہوسکی، بھتیجے پاکستان نہیں آرہے،عظمی بخاری کا علیمہ خان پر طنز سندھ حکومت کا یوم آزادی پر گاڑی، دکان یا عمارت کی بہترین سجاوٹ پر انعام دینے کا اعلان عمران خان نے بیٹوں کو پاکستان آنے سے نہیں روکا، شیخ وقاص اکرام گزشتہ 3ماہ کے دوران ایران سے تقریبا 18لاکھ مہاجرین کو بے دخل کیا گیا، افغان حکومت
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کا ڈیزائن منتخب اسٹیٹ بینک
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔