یوم شہدائے پولیس، کرم کے شہید پولیس اہلکاروں کی بہادری کی داستان
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
ضلع کرم میں گزشتہ ایک سال کے دوران کرم پولیس کے 07 بہادر سپاہیوں سمیت مجموعی طور پر 68 جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر یہ ثابت کیا کہ وہ کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرتے۔ اسلام ٹائمز۔ ضلع کرم خیبر پختونخوا کا وہ منفرد خطہ ہے جس کی سرزمین بہادری، ایثار اور سرفروشی کی ان کہی داستانوں سے لبریز ہے یہاں کی فضائیں ان لازوال قربانیوں کی گواہ ہیں جو کرم پولیس کے جوانوں نے قیامِ امن کے لیے دی ہیں، ضلع کرم میں گزشتہ ایک سال کے دوران کرم پولیس کے 07 بہادر سپاہیوں سمیت مجموعی طور پر 68 جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر یہ ثابت کیا کہ وہ کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرتے۔ ان شہداء کی قربانیاں خیبرپختونخوا پولیس بالخصوص ڈسٹرکٹ کرم پولیس کی جرات، فرض شناسی اور ایثار کا روشن مینار ہیں یہ وہ عظیم سپوٹر ہے جنہوں نے اپنے خون سے امن کی زمین کو سینچا اور ثابت کیا کہ امن کی قیمت بہت بڑی ہے اور وہ اسے چکانے کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔
ضلع کرم کی جغرافیائی حدود قبائلی رسوم و روایات اور سیکیورٹی کے پیچیدہ معاملات پولیس کے فرائض کو عام حالات سے کہیں زیادہ مشکل بنا دیتے ہیں لیکن ان تمام مشکلات کے باوجود کرم پولیس کے جوان عزم و حوصلے کی مثال بن کر سامنے آئے ہیں انہوں نے دہشت گردی، شدت پسندی اور جرائم کے خلاف جس پامردی سے مقابلہ کیا ہے وہ قابلِ تقلید ہے۔ کرم پولیس نہ صرف ان شہداء کی قربانیوں کو یاد رکھتی ہے بلکہ ان کے مشن یعنی امن کے قیام کو پوری قوت سے آگے بڑھا رہی ہے ان کی یادیں ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گی اور ان کی جرات و بہادری آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنی رہیں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کرم پولیس کے
پڑھیں:
سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
کراچی کی سٹی کورٹ میں ڈاکٹر آکاش قتل کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے پولیس کو مقدمے کی تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
پولیس کے مطابق ایس آئی یو ویسٹ نے ڈاکٹر آکاش کے قتل میں ملوث ملزمان کے خلاف مزید کارروائی کرتے ہوئے تین افراد، سریش عرف ساگر، انیل اور رام چند کے قتل کا مقدمہ اسلم پہنور اور اس کے ساتھیوں کے خلاف درج کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسلم پہنور ایک ڈکیت گروہ کا سرغنہ ہے۔
پولیس کے مطابق ملزمان نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں زیر حراست تین ملزمان اور ایک ہیڈ کانسٹیبل زخمی ہو گئے۔ بعد ازاں زیر حراست تینوں ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے، جبکہ زخمی ہیڈ کانسٹیبل کو اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اس کا علاج جاری ہے۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر آکاش کو بینک سے رقم لے کر جاتے ہوئے قتل کیا گیا تھا۔ پولیس نے اس کیس میں تین ملزمان کو گرفتار کیا تھا، جو دوران حراست ہلاک ہو گئے۔