کانگریس کی لیڈر نے 19 جولائی کو اوڈیشہ کے پوری ضلع میں پیش آئے ایک دل دہلا دینے والے واقعے کا حوالہ دیا، جس میں تین افراد نے ایک نابالغ بچی کو اغوا کیا اور زندہ جلا دیا۔ اسلام ٹائمز۔ انڈین نیشنل کانگریس کی لیڈر الکا لامبا نے ملک بھر میں خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور بی جے پی پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین پر مظالم بڑھ رہے ہیں لیکن حکومت نہ صرف خاموش ہے بلکہ مجرموں کو بچانے میں بھی ملوث نظر آرہی ہے۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے صدر دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الکا لامبا نے 19 جولائی کو اوڈیشہ کے پوری ضلع میں پیش آئے ایک دل دہلا دینے والے واقعے کا حوالہ دیا، جس میں تین افراد نے ایک نابالغ بچی کو اغوا کیا اور زندہ جلا دیا۔ بعد ازاں متاثرہ کو دہلی کے ایمس اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔ الکا لامبا نے سوال اٹھایا کہ اتنے ہولناک جرم کے بعد بھی مجرم آزاد کیوں ہیں، پولیس کا جواب کہ "کسی کا ہاتھ ثابت نہیں ہوا" ان کے مطابق حکومت اور نظام کی کھلی ناکامی ہے۔

الکا لامبا نے بتایا کہ مدھیہ پردیش اسمبلی میں کانگریس ایم ایل اے عارف مسعود کے سوال پر حکومت نے خود اعتراف کیا کہ 2022ء سے 2024ء کے درمیان ریاست میں 7418 خواتین کے ساتھ ریپ کے واقعات ہوئے، جن میں دلت اور آدیواسی خواتین کی بڑی تعداد شامل ہے۔ ان کے مطابق یہ اعداد و شمار بی جے پی حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں۔ الکا لامبا نے کہا کہ پارلیمنٹ کے اجلاس کے آغاز کے ساتھ ہی کانگریس خواتین ونگ نے ملک میں خواتین کی حفاظت کے لئے "انصاف مارچ" نکالا، لیکن پولیس نے مارچ میں شامل خواتین کو آٹھ گھنٹوں تک نجف گڑھ تھانے میں حراست میں رکھا۔ انہوں نے اس اقدام کو جمہوریت کی روح کے منافی قرار دیا۔

کانگریس کی خاتون لیڈر نے بی جے پی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے کئی رہنما جنسی جرائم میں ملوث ہیں، لیکن حکومت ان کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے خاص طور پر کرناٹک کے ایم پی پرجول ریونّا کا ذکر کیا، جن پر اجتماعی زیادتی کے الزامات لگے۔ انہوں نے کہا کہ جب نریندر مودی ان کے لئے انتخابی مہم چلا رہے تھے، تب راہل گاندھی نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا اور کرناٹک کی کانگریس حکومت نے صرف 15 ماہ میں ریونّا کو فاسٹ ٹریک عدالت کے ذریعے سزا دلوا دی۔ الکا لامبا نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ خواتین سے متعلق جرائم کے مقدمات فاسٹ ٹریک عدالتوں میں چلائے جائیں۔ متاثرہ خاندانوں کو تحفظ اور مناسب معاوضہ فراہم کیا جائے۔ حکومت مجرموں کی حمایت بند کرے اور عوام کے اعتماد کو بحال کرے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ کانگریس خواتین ونگ انصاف کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی، چاہے حکومت گرفتاریاں کرے یا طاقت کا استعمال۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: الکا لامبا نے انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

نتیجہ خیز آپریشن شعبان!

پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔

پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔

گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔

گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟

پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔

 بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔

سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار