نیویارک زلزلے سے لرز اٹھا، مین ہٹن اور برونکس میں خوف و ہراس
اشاعت کی تاریخ: 3rd, August 2025 GMT
نیویارک(انٹرنیشنل ڈیسک)نیویارک شہر میں ہفتے کی رات اس وقت سنسنی پھیل گئی جب ایک اچانک زلزلے نے نیو جرسی کو ہلا کر رکھ دیا۔
امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) کے مطابق، زلزلے کی شدت 3.0 ریکارڈ کی گئی اور یہ رات 10:18 بجے ہسبروک ہائٹس، نیو جرسی میں زمین کے تقریباً چھ میل نیچے آیا۔
اگرچہ زلزلہ نسبتاً معمولی نوعیت کا تھا، لیکن اس کے جھٹکے نیویارک شہر کے کئی حصوں، خاص طور پر مین ہٹن اور برونکس تک محسوس کیے گئے۔ شہریوں نے لرزتے فرش اور کھڑکیوں کی جھنکار کی شکایات کیں۔
نیویارک ایمرجنسی مینجمنٹ (NYCEM) نے واقعے کے فوراً بعد بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ حالات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
بیان میں خبردار کیا گیا کہ ’آفٹر شاکس‘ یعنی ضمنی جھٹکے (چند منٹوں، گھنٹوں یا دنوں بعد بھی) کسی بھی وقت آ سکتے ہیں۔
تاحال کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، لیکن حکام نے شہریوں کو گھروں میں دراڑیں، گری ہوئی اشیا یا دیگر ممکنہ خطرات کا جائزہ لینے کا مشورہ دیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ زلزلہ صرف چند دن بعد پیش آیا جب 30 جولائی کو روس کے مشرقی ساحل، کامچاٹکا میں ایک خوفناک 8.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
اسلام آباد:ہائیکورٹ نے جاری اشتہار کے مطابق اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) میں نئی بھرتیوں پر عملدرآمد سے روک دیا۔
عدالت نے حکم دیا کہ اسامیوں کی بھرتی کے لیے جاری کیے گئے اشتہار پر مرکزی درخواست کے حتمی فیصلے تک عملدرآمد معطل رہے گا۔ جسٹس محمد اعظم خان نے یہ احکامات جاری کرتے ہوئے متفرق درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات بھی دور کر دیے۔
حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ عدالت درخواست کے میرٹ پر دیے بغیر متفرق درخواست کو منظور کررہی ہے۔ عدالت نے اشتہار پر عملدرآمد روکنے کی متفرق درخواست منظور کرتے ہوئے اسے نمٹا دیا، جبکہ مرکزی کیس کی سماعت کے لیے 22 اگست کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔
واضح رہے کہ اے این ایف کے کانسٹیبل محمد شفیق خان نے اپنے وکیل محمد علی رضا کے ذریعے اسامیوں کے اشتہار کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔ درخواست میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ قانون اور ڈائریکٹر جنرل اے این ایف کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ گزشتہ 10 سال سے اے این ایف میں ایک ہی عہدے پر خدمات انجام دے رہا ہے، لیکن اسے کوئی ترقی نہیں دی گئی۔ اس نے بتایا کہ محکمہ کے 665 کانسٹیبلز کی سینیارٹی فہرست میں اس کا نمبر 232 ہے، اس کے باوجود محکمانہ ترقی کا حق نظر انداز کیا گیا۔
درخواست میں کہا گیا کہ ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کا اجلاس بلائے بغیر نئی براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار جاری کرنا غیر قانونی ہے۔ مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اے این ایف کے سروس رولز کے تحت پہلے سے موجود ملازمین کی ترقی کا حق ختم کرکے براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار دیا گیا ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ دیگر اداروں سے ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسران کی غیر قانونی انٹری روک کر سویلین ملازمین کا سروس اسٹرکچر بحال کیا جائے۔ عدالت اے این ایف کا جاری کردہ حالیہ بھرتیوں کا اشتہار غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کرے اور تمام خالی اسامیوں پر محکمانہ ترقیوں کے لیے ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی فوری تشکیل دینے کا حکم جاری کرے۔