سکھر میںکرائے کی عدم ادائیگی پر متروکہ وقف املاک بورڈ دفتر کو تالا
اشاعت کی تاریخ: 4th, August 2025 GMT
لاہور ( سید عدنان فاروق ) ملک بھر میں اربوں روپے کی کمرشل، رہائشی اور زرعی اراضی کا مالک اور آئے روز لیز شدہ اور کرائے داروں کے جائیدادوں پر تالے لگانے والے متروکہ وقف املاک بورڈ کے اپنے دفتر میں تالے لگ گئے‘ تفصیلات کے مطابق سکھر میں بورڈ انتظامیہ نے کرائے کی عمارت پر ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر متروکہ وقف املاک بورڈ کا دفتر قائم کر رکھا ہے جہاں کے جائیداد کے مالک نے کرایہ کی عدم ادائیگی پر دفتر کے داخلی دروازے پر تالے لگا کر اسے اپنے قبضہ میں لے لیا۔ ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر سکھر عاشق حسین نے نوائے وقت کو بتایا کہ مالکا ن کے 2لاکھ 64ہزار روپے دینے ہیں ہمارے پاس فنڈز موجود ہیں چونکہ دفتر میں اکائونٹنٹ کی آسامی خالی ہے اور اس کے دستخط کے بغیر فنڈز کی ادائیگی نہیں ہو سکتی تاہم اس معاملہ کو ہم جلد حل کر لیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔