پاکستانی آٹو مارکیٹ میں جلد ہی ایک نئی اورممکنہ طور پر گیم چینجر الیکٹرک اسپورٹس یوٹیلیٹی وہیکل کی آمد متوقع ہے، جس کی رینج 1100 کلومیٹرسے زائد ہوگی۔

کیپٹل اسمارٹ موٹرز کی جانب سے متعارف کروائی جانے والی فورتھنگ فرائیڈے نامی یہ رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک وہیکل مجموعی طور پر1150  کلومیٹر کی متاثر کن رینج کی حامل ہے، تاہم اس میں ایک معمولی فرق موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

 یہ گاڑی تقریباً 600 کلومیٹرکی مکمل الیکٹرک رینج فراہم کرتی ہے، جب کہ باقی ماندہ 550  کلومیٹر ایک رینج ایکسٹینڈر سسٹم کے ذریعے فراہم کیے جاتے ہیں، جس سے اس کی کل دعوٰی کردہ رینج 1150  کلومیٹرتک جا پہنچتی ہے۔

رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک وہیکل دراصل ایک ایسی الیکٹرک گاڑی ہوتی ہے جو بنیادی طور پر بیٹری میں محفوظ بجلی سے چلتی ہے، مگر اس میں ایک چھوٹا اندرونی انجن بھی شامل ہوتا ہے، جو بیٹری کم ہونے کی صورت میں اسے چارج کرنے کے لیے جنریٹرکے طورپرکام کرتا ہے۔

مزید پڑھیں:

یہ نظام گاڑی کو روایتی الیکٹرک گاڑیوں کے مقابلے میں زیادہ فاصلہ طے کرنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے اور مکمل طور پر بیرونی چارجنگ پر انحصار کی ضرورت کم ہوجاتی ہے۔

فورتھنگ ایک چینی کمپنی ڈونگ فینگ لیزو موٹر کی تیار کردہ مسافر گاڑیوں کا برانڈ ہے، جو کہ ڈونگ فینگ موٹر گروپ کی ذیلی کمپنی ہے۔

اس اسپورٹس یوٹیلیٹی وہیکل کی پاکستان میں رواں ماہ کے وسط میں باضابطہ لانچ کی توقع ہے اور آئندہ چند دنوں میں اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آنے کی امید ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آٹو مارکیٹ اسپورٹس یوٹیلیٹی وہیکل الیکٹرک گاڑیوں انجن چارجنگ رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک وہیکل.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: آٹو مارکیٹ الیکٹرک گاڑیوں چارجنگ الیکٹرک گاڑی

پڑھیں:

مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش

عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے  آیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے  فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔ 

انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں  زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔

بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ 

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے  مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین  تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر  رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • صرف 10 لاکھ روپے میں منی الیکٹرک کار، کیا یہ واقعی ممکن ہے؟
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی