فخر زمان دوبارہ ان فٹ، ویسٹ انڈیز دورہ ادھورا چھوڑ کر وطن واپسی پر مجبور
اشاعت کی تاریخ: 4th, August 2025 GMT
پاکستانی اوپنر فخر زمان ہمسٹرنگ انجری کے باعث ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز سے باہر ہو گئے ہیں اور اب وہ وطن واپس لوٹ رہے ہیں۔ 35 سالہ بائیں ہاتھ کے بلے باز کو فلوریڈا میں دوسرے ٹی20 میچ کے دوران 19ویں اوور میں فیلڈنگ کرتے ہوئے بائیں ٹانگ میں کھنچاؤ محسوس ہوا، جس کے بعد انہیں فوری طور پر گراؤنڈ سے ہٹایا گیا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق فخر زمان کا فوری طور پر معائنہ کیا گیا اور پی سی بی میڈیکل پینل نے ان کی ہمسٹرنگ انجری کی تصدیق کی۔ ٹیم فزیو نے ابتدائی طبی امداد فراہم کی، تاہم انہیں مکمل طور پر آرام کا مشورہ دیا گیا ہے۔
فخر زمان تیسرا اور آخری ٹی20 میچ نہیں کھیل سکے، جس میں پاکستان نے 13 رنز سے کامیابی حاصل کرکے سیریز 1-2 سے اپنے نام کی۔ وہ 4 اگست کی شام پاکستان پہنچیں گے اور نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں بحالی کے عمل سے گزریں گے۔
مزید پڑھیں: انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ، فخر زمان نے واضح اعلان کردیا
واضح رہے کہ فخر زمان حالیہ عرصے میں ناقص فارم کا شکار رہے ہیں۔ بنگلہ دیش کے خلاف سیریز میں وہ 1، 44 اور 8 رنز بنا سکے جبکہ ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے 2 میچز میں ان کا اسکور 28 اور 20 رہا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025 میں نیوزی لینڈ کے خلاف افتتاحی میچ میں بھی فخر زمان کو پسلیوں میں چوٹ لگی تھی، تاہم انہوں نے 41 گیندوں پر 24 رنز کی اننگز کھیلی، لیکن اس انجری کے باعث باقی ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئے تھے۔ بعد ازاں وہ اپریل میں نیوزی لینڈ کے خلاف ہوم سیریز کے لیے بھی ٹیم کا حصہ نہیں بن سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
فخر زمان ہمسٹرنگ انجری ویسٹ انڈیز دورہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ویسٹ انڈیز دورہ ویسٹ انڈیز کے خلاف
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔