وفاقی حکومت کابجلی کے بلوں کی مد میں ڈیجیٹل مردم شماری کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
شاہد ندیم سپرا:وفاقی حکومت نےبجلی کے بلوں کی مد میں ڈیجیٹل مردم شماری کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
اس سلسلے میں لیسکو سمیت تمام کمپنیوں کو ڈور ٹو ڈور سروے کرنے کیلئے مراسلہ بھجوا دیا گیا۔کمپنیوں کو تھرڈ پارٹی کے ذریعے ڈیجیٹل مردم شماری کی ہدایات جاری کی گئی۔
ڈیجیٹل مردم شماری میں صارفین کے قومی شناختی کارڈ نمبرز کا ریکارڈ لیا جائیگا،گھروں پر نصب میٹرز کی تعداد بھی ریکارڈ میں شامل کر دی گئی۔
کنکشن گھر کے مالک یا کرایہ دار کے نام پر ہونے کا ریکارڈ بھی مردم شماری میں شامل کیا جائے گا۔
سروے کے دوران بجلی کے بلوں پر عائد ٹیرف کو بھی ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے گا،ڈیجیٹل سروے کے دوران صارفین کے موبائل نمبرز بھی حاصل کئے جائیں گے۔
وفاقی حکومت نے الیکٹریسٹی پلان کے تحت مردم شماری کرنے کی ہدایت کی۔
الیکشن کمیشن نے پارلیمنٹ کے پانچ اور صوبائی اسمبلی کے تین ارکان کو نااہل قرار دے دیا،9 نشستیں خالی ہو گئیں
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ڈیجیٹل مردم شماری
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔