ناظم آباد نمبر 3میں ناجائز تعمیرات پر ڈی جی خاموش
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
پلاٹ نمبر A2/9 اور H12/36 پر کمر شل پورشن اور دکانیں قائم
ڈائریکٹر ضیاء ودیگر متعلقہ ذمہ داروںکو لوٹ کھسوٹ کی کھلی چھوٹ
سندھ بلڈنگ شاہ میر بھٹو کی بلڈنگ افسران کی بدعنوانیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش ڈائریکٹر وسطی سید ضیا کی ناجائز تعمیرات سے دانستہ چشم پوشی ناظم آباد نمبر 3 پلاٹ A2/9 اور H12/36 پر خلاف ضابطہ تعمیرات کی چھوٹ جرآت سروے ٹیم کی سید ضیا سے رابطے کی کوشش ناکام کراچی اسٹاف رپورٹر ڈائریکٹر جنرل شاہ میر خان بھٹو کی جانب سے بلڈنگ افسران کی بدعنوانیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے زمینی حقائق اور شواہد کے مطابق ڈائریکٹر وسطی سید ضیا نے خلاف ضابطہ تعمیرات سے دانستہ طور پر چشم پوشی اختیار کر رکھی ہے جرآت سروے کے دوران حاصل کی جانے والی تصاویر میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ وسطی کے رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن یونٹ اور دکانوں کی تعمیر کی چھوٹ خطیر رقوم بٹورنے کے بعد دی جا چکی ہے اسوقت بھی انتظامیہ کی سرپرستی میں ناظم آباد نمبر 3 کے رہائشی پلاٹ A2/9 اور H12/36 پر خلاف ضابطہ تعمیرات تکمیل کے مراحل میں داخل ہو چکی ہیں جرآت سروے ٹیم کی جانب سے ڈائریکٹر وسطی سید ضیا سے رابطے کی کوشش کی گئی مگر رابطہ ممکن نہ ہو سکا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔