میڈیا ذرائع کے بقول صیہونی فوج نے بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے چیف آف آرمی اسٹاف کو برطرف کر دینے کی دھمکیوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے چارہ ماہ تک صیہونی فوجیوں کی سروس معطل کر دی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مختلف میڈیا ذرائع نے صیہونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور صیہونی فوج کے درمیان اختلافات کی شدت خطرناک حد تک بڑھ جانے کا اعلان کیا ہے۔ حال ہی میں صیہونی فوج نے آئندہ چار ماہ تک صیہونی فوجیوں کی سروس معطل کر دی ہے جبکہ نیتن یاہو غزہ پر مکمل فوجی قبضے کی باتیں کر رہا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صیہونی رژیم کے سیاسی اور فوجی سربراہان کے درمیان نہ صرف شدید اختلافات پیدا ہو چکے ہیں بلکہ نیتن یاہو کے بیٹے کے بقول فوج نے ایک طرح سے نیتن یاہو کے خلاف بغاوت کر دی ہے اور غزہ میں جنگ بندی کا اعلان کر دیا ہے۔ صیہونی فوج کا یہ فیصلہ بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے چیف آف آرمی اسٹاف کو غزہ جنگ جاری رہنے کی مخالفت کرنے کے باعث برطرف کر دینے کی بار بار کی دھمکیوں کا ردعمل قرار دیا جا رہا ہے۔ پیر کی رات ایک خبر شائع ہوئی جس میں کہا گیا تھا کہ صیہونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے فوجی اور سیکورٹی سربراہان کی مرضی کے برخلاف غزہ میں جنگ کا دائرہ بڑھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ نیتن یاہو غزہ کی پٹی پر مکمل فوجی قبضہ کرنے کے درپے ہے۔ دوسری طرف صیہونی فوج نے فوجیوں کی شدید کمی کے باعث فوجی سروس لازمی ہونے کا وہ قانون چار مہینے تک معطل کر دیا ہے جو 7 اکتوبر 2023ء کے بعد وضع کیا گیا تھا اور اس کے تحت تمام صیہونیوں پر فوجی سروس لازمی قرار دی گئی تھی۔
 
صیہونی اخبار یدیعوت آحارنوت اس بارے میں لکھتا ہے: "فوج نے وزیراعظم کی دھمکیوں پر سرکاری طور پر تو کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے لیکن ایسا اقدام انجام دیا ہے جو یوں ظاہر ہوتا ہے کہ غزہ کی پٹی پر مکمل فوجی قبضے کی پیشکش کا ردعمل ہے۔" یہ اخبار مزید لکھتا ہے کہ چیف آف آرمی اسٹاف ایال ضمیر کا یہ فیصلہ نہ صرف غزہ جنگ کے عملی اختتام کو ظاہر کرتا ہے جو گذشتہ برس واقع ہوا تھا بلکہ "گیڈئون کی رتھیں" نامی غزہ میں جاری فوجی آپریشن میں موجود فوجیوں کی تعداد کم از کم حد تک پہنچا دے گا۔ دوسرے الفاظ میں صیہونی فوج کا یہ فیصلہ غزہ میں جاری محدود لڑائی کو مزید محدود کر دے گا کیونکہ آئندہ چند ہفتوں کے دوران اسپشل یونٹس اور بٹالینز میں فوجیوں کی تعداد کم ہوتی جائے گی۔ صیہونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے بیٹے یائیر نیتن یاہو نے سوشل میڈیا ایکس پر اپنے پیغام میں چیف آف آرمی اسٹاف ایال ضمیر پر والد کے خلاف فوجی بغاوت کا الزام عائد کیا ہے۔ اس نے ایال ضمیر کی جانب سے غزہ جنگ جاری رکھنے کی مخالفت کرنے کے بارے میں لکھا: "اگر یہ موقف اختیار کرنے والا وہی شخص ہے جسے ہم سب جانتے ہیں (ایال ضمیر) تو یہ ایک فوجی بغاوت ہے جو 1970ء کی دہائی میں مرکزی امریکہ میں موذی ریپبلکنز کی یاد دلاتی ہے۔"
 
اس سے پہلے صیہونی چیف آف آرمی اسٹاف ایال ضمیر نے خبردار کیا تھا کہ نیتن یاہو کی کابینہ نے گذشتہ طویل عرصے سے فوجی سربراہان سے میٹنگ نہیں رکھی اور غزہ جنگ کے مستقبل کے بارے میں پالیسی واضح نہیں ہے۔ ایال ضمیر نے کہا تھا کہ نیتن یاہو نے غزہ میں فوج کو خطرے میں ڈال رکھا ہے جس کی وجہ سے فوج کو شدید نقصان ہوا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ غزہ پر مکمل فوجی قبضے اور وہاں سے حماس کے مکمل خاتمے کے لیے چند سال کا وقت درکار ہے جبکہ صیہونی فوج شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی ہے اور جنگ مزید جاری نہیں رکھ سکتی۔ صیہونی ٹی وی چینل 12 نے فاش کیا ہے کہ صیہونی چیف آف آرمی اسٹاف ایال ضمیر اور وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے درمیان اختلاف کی شدت کے باعث پیدا شدہ بحران ایسے مرحلے میں پہنچ چکا ہے کہ چیف آف آرمی اسٹاف کے مستعفی ہونے کا امکان پیدا ہو گیا ہے، خاص طور پر اگر اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے لیے جاری مذاکرات ناکامی کا شکار ہو جائیں۔ صیہونی اخبار یدیعوت آحارنوت اس بارے میں لکھتا ہے کہ چیف آف آرمی اسٹاف ایال ضمیر اس وقت بہت مشکل انتخاب سے روبرو ہے۔ وہ اس وقت ایسے شخص کی طرح ہے جو میدان جنگ میں حاضر ہے اور اس کے پاس صرف ایک ہی گولی باقی بچی ہے۔ یوں اگر قیدیوں کے تبادلے کے لیے جاری مذاکرات ناکامی کا شکار ہوتے ہیں تو شاید اس کے پاس استعفی دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہو گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کہ نیتن یاہو نیتن یاہو کے پر مکمل فوجی صیہونی فوج کہ صیہونی فوجیوں کی کے درمیان فوج نے کیا ہے

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل