نیتن یاہو نے فلسطینی قیدیوں کے لیے سزائے موت کے بل کی منظوری کی حمایت کر دی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
یروشلم: اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دینے کے متنازع بل کی حمایت کر دی ہے، جسے بدھ کے روز پارلیمان (کنیسٹ) میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
ترکیہ کی خبر ایجنسی اناطولیہ کے مطابق اسرائیلی یرغمالیوں اور لاپتا افراد کے کوآرڈینیٹر گل ہیرش نے تصدیق کی ہے کہ وزیراعظم نیتن یاہو نے اس بل کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ بل دائیں بازو کی انتہا پسند جماعت جیوش پاور پارٹی کی جانب سے پیش کیا گیا ہے، جس کی قیادت وزیرِ قومی سلامتی ایتمار بن گویر کر رہے ہیں۔
مجوزہ قانون کے مطابق ایسے فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دی جا سکے گی جو کسی اسرائیلی شہری کو نسلی تعصب، نفرت یا ریاستِ اسرائیل کو نقصان پہنچانے کے ارادے سے قتل کریں — چاہے یہ عمل دانستہ ہو یا غیر دانستہ۔
اسرائیلی قانون کے تحت کسی بھی بل کو نافذالعمل ہونے کے لیے کنیسٹ سے تین مراحل کی منظوری درکار ہوتی ہے۔ سرکاری نشریاتی ادارے کان کے مطابق گل ہیرش نے کنیسٹ کی نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کو بتایا کہ وہ پہلے اس بل کی مخالفت کر رہے تھے کیونکہ اس سے غزہ میں زیرِ حراست اسرائیلی یرغمالیوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا تھا، تاہم اب ان کا کہنا ہے کہ ’’یرغمالی زندہ ہیں، اس لیے مخالفت کی کوئی وجہ باقی نہیں رہی۔‘‘
کمیٹی نے پیر کے روز ایک بیان میں تصدیق کی کہ جیوش پاور پارٹی کی درخواست پر بل کو پہلے مرحلے کی منظوری کے لیے پیش کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
وزیرِ قومی سلامتی ایتمار بن گویر اس سے قبل بھی فلسطینی قیدیوں کے لیے سزائے موت کے قانون کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ بن گویر کی پالیسیوں کے باعث جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کے حالات مزید خراب ہوئے ہیں، ملاقاتوں پر پابندی، خوراک میں کمی اور بنیادی سہولتوں کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔
فلسطینی اور اسرائیلی تنظیموں کے مطابق اس وقت 10 ہزار سے زائد فلسطینی، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق قیدیوں کو تشدد، بھوک اور طبی غفلت کا سامنا ہے، جب کہ درجنوں قیدی حراست کے دوران شہید ہو چکے ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ اکتوبر میں حماس نے ایک عارضی جنگ بندی معاہدے کے تحت 20 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا تھا، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ 20 نکاتی امن منصوبے کے تحت طے پایا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فلسطینی قیدیوں سزائے موت کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
سائنس دانوں نے پہلی بار قاتل وہیل (اورکا) کے ایک ایسے غیرمعمولی رویے کا مشاہدہ کیا ہے جس میں وہ مردہ سن فش کو زور دار ٹکر مار کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاکھوں سال پرانا وہیل مچھلیوں کا وسیع و عریض قبرستان دریافت، سائنسدان حیران
اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق محققین بتاتے ہیں کہ یہ عمل یا تو خوراک کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کرنے کے لیے کیا جاتا ہے یا پھر ممکن ہے کہ اورکا محض تفریح کے لیے ایسا کرتی ہوں۔
امریکی غیر سرکاری تنظیم ’بینیتھ دی ویوز‘ کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک اورکا وہیل سن فش کی دم کو پکڑے ہوئے ہے جبکہ دوسری پوری طاقت کے ساتھ اس پر حملہ کرتی ہے جس کے نتیجے میں مچھلی کے ٹکڑے بکھر جاتے ہیں۔
محقق کیتھرین آئرس کے مطابق یہ سن فش پہلے ہی مردہ تھی اس لیے یہ شکار کرنے کا عمل نہیں تھا۔
Killer whales: orcas blow fish to bits, study finds.
Video from US-based NGO Beneath The Waves shows an orca holding the tail of a sunfish, while another whale charges with full force into the already dead fish, which explodes into pieces – possibly an attempt to turn the fish… pic.twitter.com/ZK4ZUnSzMH
— AFP News Agency (@AFP) July 23, 2026
انہوں نے بتایا کہ ممکن ہے اورکا وہیل مچھلی کو کھانے میں آسانی کے لیے چھوٹے حصوں میں تقسیم کر رہی ہوں تاہم یہ بھی ممکن ہے کہ وہ صرف کھیل رہی ہوں، کیونکہ اورکا وہیل اپنے شکار کے ساتھ کھیلنے کے لیے مشہور ہیں۔
کیتھرین آئرس نے کہا کہ اورکا اکثر اپنے شکار کو ٹکڑوں میں تقسیم کرکے اپنے گروہ کے دیگر ارکان خصوصاً بچوں اور کم عمر وہیلوں کے ساتھ بھی بانٹتی ہیں۔
یہ غیرمعمولی مناظر سال 2024 اور سال 2025 کے دوران خلیج کیلیفورنیا میں دو مختلف مواقع پر ریکارڈ کیے گئے جن کی تفصیلات سائنسی جریدے فرنٹیئرز اِن ایتھولوجی میں شائع ہونے والی تحقیقی رپورٹ میں پیش کی گئی ہیں۔
مزید پڑھیے: جرمنی میں ساحل پر پھنسے ہمپ بیک وہیل کو بچانے کی دوڑ، ریسکیو آپریشن جاری
تنظیم اوشن کیئر کے ڈائریکٹر برائے سائنس مارک پیٹر سیمنڈز نے اس رویے کو انسانوں کی اجتماعی دعوتوں سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ جیسے لوگ کھانے کے دوران سماجی روابط بھی قائم رکھتے ہیں اسی طرح اورکا وہیلوں میں بھی خوراک بانٹنے کا عمل سماجی تعلقات کا حصہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شاید یہ اسی طرح ہو جیسے کسی رسمی دعوت میں میزبان گوشت کاٹ کر دوسروں میں تقسیم کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اورکا وہیل دنیا کے ذہین ترین سمندری شکاریوں میں شمار ہوتی ہیں اور شکار کے لیے نہایت پیچیدہ حکمت عملیاں استعمال کرتی ہیں۔
اس سے قبل بھی انہیں برف کے بڑے ٹکڑوں پر موجود سیل مچھلیوں کو گرانے کے لیے اجتماعی طور پر لہریں پیدا کرتے دیکھا جا چکا ہے تاکہ انہیں آسانی سے شکار کیا جا سکے۔
تحقیقی رپورٹس میں یہ بھی سامنے آ چکا ہے کہ بعض اورکا وہیل مردہ سالمن مچھلیوں کو اپنے سروں پر رکھتی ہیں تاہم اس عجیب رویے کی وجہ اب تک معلوم نہیں ہو سکی۔
مزید پڑھیں: ممبئی ساحل پر پھنسا 26 فٹ لمبا وہیل کا بچہ ریسکیو کے باوجود دم توڑ گیا
گزشتہ سال شائع ہونے والی ایک اور تحقیق کے مطابق سیلش سی میں رہنے والی شدید خطرے سے دوچار اورکا وہیلوں کو سمندری گھاس کے ٹکڑے توڑ کر ایک دوسرے کی صفائی اور جسم رگڑنے کے لیے بطور آلے استعمال کرتے بھی دیکھا گیا تھا۔
ویسٹرن آسٹریلیا کی کرٹن یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی سائنس دان ریبی کا ویلارڈ جو اس تحقیق کا حصہ نہیں تھیں نے کہا کہ یہ مشاہدہ ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ اورکا وہیل انتہائی ذہین مخلوق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امید ہے اس طرح کی تحقیقات لوگوں میں ان طاقتور سمندری شکاریوں کے لیے مزید احترام پیدا کریں گی۔
تحقیق کے مطابق سن فش دنیا کی سب سے بڑی ہڈی والی مچھلیوں میں شمار ہوتی ہے جس کا وزن 2 ہزار کلوگرام تک ہو سکتا ہے۔ اس کا چپٹا جسم اور منفرد ساخت اسے دیگر مچھلیوں سے ممتاز بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستانی سمندر میں وہیل اور ڈولفن کی 27 اقسام کی موجودگی خوش آئند ہے، وفاقی وزیر بحری امور
ماہرین نے واضح کیا کہ سن فش عام طور پر اس طرح ٹکڑوں میں نہیں بکھرتی جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اورکا وہیل کی ٹکر غیرمعمولی طور پر طاقتور تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اورکا وہیل دلچسپ تحقیق سن فش قاتل وہیل کلر وہیل وہیل پر تحقیق وہیل کی سن فش کو ٹکر