نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت پاکستانی امیگریشن، بیرون ملک روزگار اور ٹیکنیکل، ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ پالیسی سے متعلق جائزہ اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 06 اگست2025ء) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت پاکستانی امیگریشن، بیرون ملک روزگار اور ٹیکنیکل، ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ (ٹی وی ای ٹی) پالیسی سے متعلق جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں تارکین وطن پاکستانی کمیونٹی کی بہبود کو پالیسی کا اہم ستون قرار دیاگیا۔
نائب وزیراعظم آفس سے جاری پریس ریلیز کے مطابق اوورسیز پاکستانیز اور وزارت ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ (او پی اینڈ ایچ آر ڈی) نے عالمی سطح پر ہنرمند افرادی قوت کی برآمدات بڑھانے کے لیے تارکین وطن کے رجحانات اور نئے مواقع کا جائزہ پیش کیا۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے معیاری ہنر کی ترقی میں سرمایہ کاری، نئے شعبوں اور منزلوں کی تلاش اور پاکستان کی انسانی صلاحیتوں کو عالمی مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت پر زور دیا۔(جاری ہے)
ان کوششوں کا مقصد ترسیلات زر میں اضافہ، بیرون ملک روزگار کے مواقع کو وسعت دینا اور پاکستان کی عالمی مسابقت کو بڑھانا ہے۔ اجلاس میں تارکین وطن پاکستانی کمیونٹی کی بہبود کو پالیسی کا اہم ستون قرار دیا گیا۔ اجلاس میں وزارت اوورسیز پاکستانیز و ترقی انسانی وسائل، تجارت اور صحت کے وزراء، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق باجوہ، کابینہ اور وزارت سمندر پار پاکستانیز و ترقی انسانی وسائل کے وفاقی سیکرٹریز اور وزارت خارجہ سمیت دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء
پشاور (بیورو رپورٹ) وزیراعلیٰ خیبر پی کے محمد سہیل آفریدی نے ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا باضابطہ اجراء کر دیا۔ جو 5 سٹریٹجک ستونوں، 9کلیدی اہداف، 32 تھیمیٹک ڈومینز، 915 سٹریٹجک اقدامات پر مشتمل ہے۔اس پالیسی کے تحت حکومتی خدمات مرحلہ وار آن لائن اور Citizen-Centric بنائے جائیں گی۔ پیپر لیس گورننس کے ذریعے شفافیت، جوابدہی اور سرکاری کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو AI اور ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت دی جائے گی۔ گرین آئی سی ٹی، کاربن فٹ پرنٹ میں کمی اور کاربن کریڈٹ رجسٹری پر کام کیا جائے گا۔ ڈیجیٹل اصلاحات سے عوام کو سرکاری دفاتر کے غیر ضروری چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔