data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (اسٹاف رپورٹر)چیف ایگز یکٹو الخدمت کراچی نوید علی بیگ نے کہا ہے کہ الخدمت 2400یتیم بچوں کی ان کے گھروں پر کفالت کر رہی ہے ،مخیر حضرات کے تعاون سے یہ سلسلہ سارا سال جاری رہتا ہے ۔باہمت یتیم بچوں کو تعلیم ودیگر ضروریات کی مدمیں ماہانہ رقم دی جاتی ہے تاکہ یہ بچے تعلیم ودیگر ضروریات پوری کرسکیں ،تیم بچے اس ملک کا روشن مستقبل ہیں ،انہیں مایوسی اور محرومی سے بچانا ہم سب کی ذمے داری ہے ۔الخدمت اسی مقصد کے تحت ان بچوں کا ہاتھ تھامے ہو ئے ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے الخدمت آرفن کیئر پروگرام کے تحت الخدمت ناظم آبا داسپتال میں قائدین اورسینٹرل سے رجسٹرڈ باہمت بچوں کی ہیلتھ اسکریننگ کے موقع پر کیا ۔انہوں نے اسکریننگ کے لیے آئے بچوں سے ملاقات کی اور ان کے سروں پر دست شفقت رکھا ،بعد ازاں ایگزیکٹو ڈائریکٹرراشد قریشی نے بھی ناظم آباد میں کیمپ کا دورہ کیا اور اسکریننگ کے عمل کا معائنہ کیا ۔ نوید علی بیگ نے کہا کہ الخدمت جہاں ان بچوں کی کفالت کر رہی ہے وہاں ان کی صحت کا بھی خیال رکھتی ہے ،ان بچوں کو مطالعاتی دورے بھی کرائے جاتے ہیں تاکہ ان کو تفریح کے موقع بھی میسر آسکیں ،انہوں نے کہا کہ یتیموں کی کفالت بڑی نیکی ہے اور یہ سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے ،انہوں نے کہا کہ اہل خیر الخدمت کے اس منصوبے میں اس کا ساتھ دیں ۔راشد قریشی نے کہا کہ الخدمت ملک بھر میں یتیموں کی کفالت کر رہی ہے ،سالانہ ہیلتھ اسکریننگ میں کراچی کے 2400باہمت بچوں کی ہیلتھ اسکریننگ کی جارہی ہے ،اس کے لیے مختلف اسکریننگ سینٹرز میں ماہر امراض اطفال ،دانتوں ،ناک ،کان ،گلے اور آنکھوں کے ماہر ڈاکٹر اور طبی عملہ خدمات انجام دے رہا ہے ،اسکریننگ کے عمل سے ہمیں بچوں کی صحت سے متعلق آگاہی حاصل ہوتی ہے اور حسب ضرورت ان کا علاج بھی کرایا جاتا ہے ،ادھر لیاری میں بھی الخدمت آرفن کیئر پروگرام کے تحت رجسٹرڈ بچوں کی ہیلتھ اسکریننگ کی گئی ،مجموعی طور پر 587بچوں کی ہیلتھ اسکریننگ کی گئی ،ان بچوں کی ڈاکٹرز کی تجویز کردہ ادویات بھی فراہم کی گئیں اور انہیںمفید مشورے بھی دیے گئے۔

اسٹاف رپورٹر سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بچوں کی ہیلتھ اسکریننگ اسکریننگ کے نے کہا کہ کی کفالت انہوں نے ان بچوں

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا