اسلام آباد:

پاکستان ہائی کمیشن اوٹاوا اور کینیڈا میں قائم پاکستان کے تین قونصل خانوں (مونٹریال، ٹورنٹو اور وینکوور) سمیت مصر میں یومِ استحصال کشمیر منایا گیا جس میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔

اس موقع پر صدرِ پاکستان، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم، وزیر خارجہ کے خصوصی پیغامات پڑھ کر سنائے گئے۔

یہ دن 5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے غیر قانونی اور یک طرفہ اقدامات کی چھٹی برسی کے طور پر منایا گیا، جب بھارت نے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35-A کو منسوخ کر کے متنازع جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی تھی۔ بھارت کا یہ اقدام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی تھا۔

اوٹاوا میں واقع پاکستان ہائی کمیشن میں ایک باوقار تقریب منعقد کی گئی جس میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ اس موقع پر صدرِ پاکستان، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کے خصوصی پیغامات پڑھ کر سنائے گئے۔

ہائی کمشنر محمد سلیم نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت جسے ’’انضمام‘‘ قرار دیتا ہے، درحقیقت وہ ایک زبردستی کی گئی غیر قانونی قبضے کی کوشش ہے۔ 5 اگست 2019 کو بھارت نے اپنے ہی آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آرٹیکل 370 کو ختم کیا، جو کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کا محافظ تھا۔ پاکستان نے اس اقدام کو فوری طور پر غیر قانونی الحاق قرار دیا۔

ہائی کمشنر نے اقوام متحدہ، عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی میڈیا سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لیں، بھارت کو اس کے اقدامات پر جوابدہ ٹھہرائیں، اور کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کی حمایت کریں۔

تقریب میں ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی جس میں مقبوضہ وادی میں بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو اجاگر کیا گیا۔

دوسری جانب، مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں قائم پاکستان سفارتخانے میں ’’یومِ استحصال‘‘ کے موقع پر ایک خصوصی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔

سفیر پاکستان عامر شوکت نے مسئلہ کشمیر کے فوری حل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر اور فلسطین کے مسائل دہائیوں سے حل طلب ہیں کیونکہ بھارت اور اسرائیل ان خطوں کے عوام کو سکون سے جینے نہیں دینا چاہتے۔

تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد مصر اور پاکستان کے قومی ترانے بجائے گئے۔ صدرِ پاکستان، وزیرِ اعظم، اور نائب وزیرِ اعظم و وزیر خارجہ کے پیغامات شرکاء کو سنائے گئے۔ سیمینار میں مصر کے ممتاز صحافیوں، ماہرین تعلیم، اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔

سیمینار میں بڑی تعداد میں دانشوروں، صحافیوں، طلبہ، اور پاکستانی کمیونٹی کے افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر بھارت کے ریاستی مظالم پر مبنی ایک خصوصی دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کیا گیا

پڑھیں:

نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد

اسپیشل اولمپکس پاکستان کے تحت نیشنل اسپیشل گیمز 2026کے دوسرے اور آخری مرحلہ میں کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد میڈلز تقسیم  اور اختتامی تقریب کاانعقاد ہوا۔

 اسپیشل اولمپکس پاکستان کی روح رواں رونق لاکھانی نے استقبالی کلمات ادا کیے، ان کا کہنا تھاکہ  گیمز میں ملک بھر سے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے والے خصوصی کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر کے ثابت کیا کہ وہ کسی سے کم نہیں۔

رونق لاکھانی نے گیمز کو کامیاب بنانے میں اسپانسرز اور ڈونرز بشمول میکڈونلڈ، پاکستان او ایم آئی اور فیصل بینک کا خصوصی شکریہ ادا کیا،انہوں نے کہا کہ خصوصی افراد کی سرپرستی کرتے ہوئے ان کو بھرپور اعتماد دینا چاہیے تاکہ وہ  معاشرے کا مضبوط انگ بن سکیں۔

مہمان خصوصی راحل اعجاز کا کہنا تھا کہ سماجی ذمہ داری کے تحت ہم مثبت سرگرمیوں کو فروغ دے رہے ہیں، اسپیشل اولمپکس پاکستان کی خصوصی کھلاڑیوں کے لیے کاوشیں قابل قدر ہیں۔

فٹبال ٹورنامنٹ  کے لیے خصوصی طور پر کینیڈا سے آنے والی فیفا فٹبال کوچ کرن غوری نے کہا کہ ایونٹ میں شریک بوائز اور گرلز کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دل جیت لیے اور ثابت کیا کہ ان کی صلاحیتیں کسی سے ہرگز کم نہیں، جیسمین نے خصوصی کھلاڑیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے بہترین سہولیات کی فراہمی پر اسپیشل اولمپکس پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔

  فٹبال چیمپئن شپ کے بوائز ایونٹ کی ایک کیٹگری میں فیڈرل ایریاز نے پہلی خیبر پختونخواہ نے دوسری اور سندھ نے تیسری پوزیشن حاصل کی،بی کیٹگری میں گلگت بلتستان فاتح رہا اور گولڈ میڈل اپنے نام کیا جبکہ بلوچستان نے دوسری پوزیشن کے ساتھ سلور اور سندھ نے سوئم رہ کر برانز میڈل حاصل کیا۔

قبل ازیں گیمز میں شریک ٹیموں نے مارچ پاسٹ کیا اور سلامی دی،آخر میں کامیاب ٹیموں اور ان کے کھلاڑیوں میں میڈلز تقسیم کیے گئے،اگلے گیمز پنجاب میں ہوں گے، گیمز  کا مقصد ذہنی معذوری والے کھلاڑیوں کو صلاحیتوں اور کھیل میں مہارت کا مظاہرہ کرنے کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا، گیمز کے ذریعہ چلی کے شہر چسینٹیاگو میں ہونے والے  ورلڈ سمر  اسپیشل گیمز  تیاریوں کا اہم حصہ ہے۔

 نیشنل گیمز کے بعد کھلاڑی سلیکشن کیمپوں میں شرکت کریں گے، جہاں سے 85 کھلاڑیوں کا انتخاب 10 کھیلوں کے لیے کیا جائے گا جو 15 سے 23 اکتوبر 2027 تک سانتیاگو (چلی) میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے  ذہنی معذوری کا شکار 82 کھلاڑیوں نے شرکت کی۔

نیشنل گیمز کے بعد کھلاڑی سلیکشن کیمپوں میں شرکت کریں گے جہاں سے 85 کھلاڑیوں کا انتخاب 10 کھیلوں کے لیے کیا جائے گا جو 15 سے 23 اکتوبر 2027 تک سانتیاگو (چلی) میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مانچسٹر، پاکستانی قونصل خانہ کے اوقات میں اضافہ
  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی