نان فائلرز کے لیے بینک سے رقم نکلوانا مہنگا، پراپرٹی ٹیکس شرح میں بڑی تبدیلی
اشاعت کی تاریخ: 9th, August 2025 GMT
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مالی سال 26-2025 کے لیے انکم ٹیکس رولز میں ترامیم جاری کر دی ہیں، جن کے تحت نان فائلرز کے لیے بینک سے رقوم نکلوانے اور غیر منقولہ جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس کی شرح میں تبدیلی کر دی گئی ہے۔
ایف بی آر کے مطابق ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ میں شامل نہ ہونے والے افراد کے لیے یومیہ 50 ہزار روپے سے زائد رقم نکلوانے پر ٹیکس 0.
غیر منقولہ جائیداد کی خرید و فروخت یا منتقلی پر ایڈوانس ٹیکس کی شرح میں بھی ردوبدل کیا گیا ہے۔ پراپرٹی خریدار کو ریلیف دیتے ہوئے ود ہولڈنگ ٹیکس میں 1.5 فیصد کمی کی گئی ہے، جبکہ فروخت کنندہ یا منتقل کرنے والے کے لیے ہر سلیب پر ٹیکس میں 1.5 فیصد اضافہ کیا گیا ہے تاکہ فروخت پر حاصل کیپٹل گین کو ایڈجسٹ کیا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے انکم ٹیکس کے سیکشن 236 سی اور 236 کے میں ترامیم کی گئی ہیں۔
مزید پڑھیں: ایف بی آر اصلاحات پر پیشرفت، ٹیکس کلیکشن میں بہتری قابل اطمینان ہے: وزیراعظم شہباز شریف
نئے شیڈول کے مطابق:5 کروڑ روپے مالیت تک کی پراپرٹی پر ٹیکس 3 فیصد سے کم ہو کر 1.5 فیصد ہو گیا۔
10کروڑ روپے تک کی پراپرٹی پر ٹیکس 3.5 فیصد سے کم ہو کر 2 فیصد کر دیا گیا۔
10 کروڑ سے زائد مالیت کی پراپرٹی پر ٹیکس 4 فیصد سے کم کرکے 2.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔
ایف بی آر کے مطابق اگر کسی شخص کے نام پر جائیداد 15 سال سے موجود ہو اور اس دوران وہ خود اس میں رہائش پذیر رہا ہو تو اس پر سیکشن 236 سی کا ود ہولڈنگ ٹیکس لاگو نہیں ہوگا، تاہم ٹیکس گوشواروں میں 15 سالہ ملکیت ظاہر کرنا لازمی ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انکم ٹیکس رولز ایف بی آر فیڈرل بورڈ آف ریونیو نان فائلرز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انکم ٹیکس رولز ایف بی ا ر فیڈرل بورڈ آف ریونیو نان فائلرز نان فائلرز ایف بی آر پر ٹیکس فیصد سے کے لیے گیا ہے
پڑھیں:
کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
علی ساہی:حکومت کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد محکمہ ایکسائز نے شہری علاقوں میں کوڑا ٹیکس کی وصولی کے لیے عملی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔
ذرائع کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صوبے کے شہری علاقوں میں 33 لاکھ سے زائد گھروں سے ٹیکس وصولی کا آغاز کیا جائے گا۔
محکمہ ایکسائز حکام کا کہنا ہے کہ مزید رہائشی اور کمرشل یونٹس کو نظام میں شامل کرنے کے لیے متعلقہ اداروں سے ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے، جبکہ وصولیوں کے مؤثر نظام کے لیے درکار انتظامی اور تکنیکی ضروریات پر بھی کام جاری ہے۔ اس حوالے سے جلد ایک جامع سمری منظوری کے لیے حکومت کو ارسال کی جائے گی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
ذرائع کے مطابق ٹیکس وصولی کے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے ابتدائی طور پر 70 گاڑیوں اور ساڑھے چھ سو ای بائیکس کی فراہمی کی درخواست کی جائے گی، تاکہ بلوں کی بروقت تقسیم اور وصولیوں کا عمل یقینی بنایا جا سکے۔
محکمہ ایکسائز نے بل تقسیم کرنے والے عملے کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے ایک سے دو فیصد سروس چارجز کی بھی تجویز دی ہے، جبکہ بلوں کی پرنٹنگ اور دیگر انتظامی امور سے متعلق ورکنگ آخری مراحل میں ہے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
ایکسائز حکام کے مطابق محکمہ ایکسائز اور متعلقہ ادارے کے درمیان بلوں کی تقسیم اور وصولی کے طریقہ کار پر متعدد اجلاس منعقد ہو چکے ہیں، جبکہ آئندہ ماہ کے پہلے ہفتے دونوں اداروں کے درمیان باقاعدہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے جانے کا امکان ہے، جس کے بعد کوڑا ٹیکس کی وصولی کے عمل کو باضابطہ طور پر شروع کیا جائے گا۔