اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 09 اگست 2025ء) یہ تقریب دو مخصوص شاموں کو منعقد کی جائے گی، جس کے تمام ٹکٹ پہلے ہی فروخت ہو چکے ہیں۔

نمائش کا مقصد تیراکی، جسمانی آزادی اور سماجی رویوں میں وقت کے ساتھ آنے والی تبدیلیوں کو اجاگر کرنا ہے۔ میوزیم کے مطابق، عوامی سوئمنگ پولز ہمیشہ مختلف طبقات، نظریات اور اخلاقی تصورات کے افراد کو یکجا کرتے رہے ہیں، کبھی ہم آہنگی سے اور کبھی عدم ہم آہنگی کے ساتھ۔

تاریخی تناظر میں، نمائش یہ بھی دکھاتی ہے کہ ماضی میں امیر و غریب، مرد و خواتین الگ الگ نہاتے تھے، جب کہ نازی دور میں یہودیوں اور غیر ملکیوں کو سوئمنگ پولز سے خارج کر دیا گیا تھا۔ اس سے پہلے بھی جنگی معذوروں کو عوامی مقامات پر آنے سے روکا جاتا تھا۔

(جاری ہے)

نمائش کے ذریعے یہ سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں:

۔ کیا خواتین، ٹرانسجینڈر یا معذور افراد کو محفوظ جگہوں کی ضرورت ہے؟

۔

کیا ٹاپ لیس تیراکی نسوانیت کے لیے فائدہ مند ہے یا نقصان دہ؟

۔ کیا زیادہ پردہ داری ترقی کی علامت ہے یا رجعت پسندی کی؟

نمائش میں 200 سے زائد تصاویر اور نوادرات شامل ہیں، جو 14 ستمبر تک جاری رہے گی۔ اس میں دکھایا گیا ہے کہ نسل پرستی، جنسی تعصب، سماجی اخراج اور تعصبات نے عوامی تیراکی کے کلچر کو کس طرح متاثر کیا ہے، اور کس طرح جمہوری اقدار اور مساوی حقوق اس میں تبدیلی لائے ہیں۔

یہ نمائش برہنہ پن کو جنسی تصور سے الگ کرنے کی کوشش ہے، جیسا کہ جرمن تنظیم ''گیٹ نیکیڈ‘‘ کا مؤقف ہے کہ برہنہ ہونا غیر معمولی نہیں ہونا چاہیے۔

اس سے قبل اسی نوعیت کی تقریبات پیرس، مارسے، برسلز اور ہینوور میں بھی منعقد ہو چکی ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ جسمانی آزادی اور سماجی شعور پر مکالمہ اب عالمی سطح پر کھلے عام جاری ہے۔

ادارت: افسر اعوان

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے

پڑھیں:

ایرانی حملے میں 10 شدید زخمی فوجیوں کو جرمنی کے ہسپتال منتقل کیا گیا، نیویارک ٹائمز

امریکی فوجی اہلکار نے نیویارک ٹائمز کو بتایا ہے کہ حالیہ ایرانی حملوں میں شدید زخمی ہونے والے تقریباً 10 امریکی فوجیوں کو علاج کے لیے جرمنی میں واقع امریکی فوجی اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ اہلکار کے مطابق، یہ فوجی ان تقریباً 100 امریکی اہلکاروں میں شامل ہیں جو جولائی کے اوائل سے مختلف حملوں میں زخمی ہوئے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی حملوں میں زخمی امریکی فوجیوں میں سے 10 کو جرمنی منتقل کر دیا گیا۔ ایک امریکی فوجی اہلکار نے نیویارک ٹائمز کو بتایا ہے کہ حالیہ ایرانی حملوں میں شدید زخمی ہونے والے تقریباً 10 امریکی فوجیوں کو علاج کے لیے جرمنی میں واقع امریکی فوجی اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ اہلکار کے مطابق، یہ فوجی ان تقریباً 100 امریکی اہلکاروں میں شامل ہیں جو جولائی کے اوائل سے مختلف حملوں میں زخمی ہوئے ہیں۔ یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی محکمۂ دفاع (پینٹاگون) اس سے قبل یہ مؤقف اختیار کر چکا ہے کہ زخمی ہونے والے بیشتر فوجیوں کو صرف معمولی دماغی چوٹیں آئی تھیں اور ان میں سے زیادہ تر اپنی ڈیوٹی پر واپس آ چکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی حملے میں 10 شدید زخمی فوجیوں کو جرمنی کے ہسپتال منتقل کیا گیا، نیویارک ٹائمز
  • کیوبا کے سفارتخانے میں فوٹو نمائش کے ذریعے فیڈل کاسترو کی صد سالہ تقریبات کا انعقاد
  • انسانی حقوق کا مغربی تصور سیرت طیبہؐ کی روشنی میں
  • بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز بعد بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز