اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 09 اگست 2025ء) حکام کے مطابق یہ حالیہ برسوں کی طویل ترین مسلح جھڑپوں میں سے ایک ہے۔ جس میں متعدد فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں۔

جھڑپ کا آغاز یکم اگست کو اس وقت ہوا جب بھارتی فوج نے عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر علاقے کو گھیرے میں لے کر تلاشی شروع کی۔ ابتدائی جھڑپ میں ایک عسکریت پسند مارا گیا اور سات فوجی زخمی ہوئے۔

اس کے بعد وقفے وقفے سے لڑائی جاری رہی، جس میں فوج نے ہیلی کاپٹر اور ڈرونز کا استعمال کرتے ہوئے عسکریت پسندوں کی غیر متعین تعداد سے نمٹنے کی کوشش کی۔

جمعہ کی شام، جھڑپ کے آٹھویں روز، دو فوجی ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔ بھارتی فوج نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں تصدیق کی کہ آپریشن ہفتہ کو بھی جاری رہا، تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

(جاری ہے)

ایسوسی ایٹڈ پریس آزادانہ طور پر ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کر سکا۔

کشمیر، جو بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک متنازعہ علاقہ ہے، 1989ء سے بھارت مخالف بغاوت کا مرکز رہا ہے۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں سرگرم عسکریت پسند خطے کو پاکستان کے ساتھ الحاق یا مکمل آزادی دلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بھارت ان کارروائیوں کو پاکستان کی پشت پناہی میں ہونے والی دہشت گردی قرار دیتا ہے، جب کہ پاکستان ان الزامات کو مسترد کرتا ہے اور کشمیریوں کی جدوجہد کو جائز آزادی کی تحریک قرار دیتا ہے۔

گزشتہ ماہ بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے پارلیمنٹ میں بتایا تھا کہ فائرنگ کے تبادلے میں مارے جانے والے تین مشتبہ عسکریت پہلگام میں ہونے والے 'قتل عام‘ کے ذمہ دار تھے، جس میں دو درجن سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اُس واقعے نے بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کو بڑھا دیا، جو اپریل میں پہلگام کے سیاحتی مقام پر ہونے والے حملے کے بعد اپنے عروج پر پہنچ گئی تھی۔ بعد ازاں 10 مئی کو امریکی ثالثی کے نتیجے میں جنگ بندی عمل میں آئی۔

2019 میں نئی دہلی کی جانب سے کشمیر کی نیم خودمختاری کے خاتمے کے بعد سے خطے میں اختلاف رائے اور شہری آزادیوں پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جب کہ انسداد بغاوت کی کارروائیوں میں بھی تیزی آئی ہے۔

ادارت: افسر اعوان

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے

پڑھیں:

مردان قتل کیس: ملزمان مغوی بچوں کو چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر فرار، تحقیقات جاری

مردان میں خاتون سمیت 3 افراد کے بہیمانہ قتل کے مقدمے میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں واردات کے بعد مقتولین کے 2 بچوں کو ساتھ لے جانے والے ملزمان بچوں کو چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر فرار ہو گئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مردان کے علاقے شیخ ملتون میں گزشتہ روز پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں مسلح ملزمان نے خاتون سمیت 3 افراد کو قتل کر دیا تھا۔ واردات کے بعد ملزمان مقتولین کے 2 کمسن بچوں اور گاڑی کو بھی اپنے ساتھ لے گئے تھے، جس پر علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:مردان، خواجہ سرا کو چھری کے وار سے قتل کردیا گیا

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بعد ازاں ملزمان دونوں بچوں کو چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر نامعلوم مقام کی جانب فرار ہو گئے۔ بچوں کے محفوظ مل جانے پر اہل خانہ نے اطمینان کا اظہار کیا ہے، تاہم ملزمان تاحال قانون کی گرفت میں نہیں آ سکے۔

پولیس کے مطابق واقعے کے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن اور چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تفتیشی ٹیمیں شواہد اکٹھے کرنے کے ساتھ ساتھ ملزمان کے فرار کے راستوں کا بھی سراغ لگا رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد

حکام کا کہنا ہے کہ قتل کی اس واردات کے محرکات اور پس منظر کا جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ واقعے میں استعمال ہونے والی گاڑی اور دیگر شواہد کی مدد سے ملزمان تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پولیس نے امید ظاہر کی ہے کہ جدید تفتیشی ذرائع اور دستیاب شواہد کی مدد سے ملزمان کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

قتل مردان

متعلقہ مضامین

  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو  ہونے کا اندیشہ
  • ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
  • مردان قتل کیس: ملزمان مغوی بچوں کو چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر فرار، تحقیقات جاری
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا