ٹرمپ کے دنیا سے جنگیں ختم کرانے کے وعدے کیا ہوئے؟
اشاعت کی تاریخ: 9th, August 2025 GMT
صدر ٹرمپ کا انتخابی نعرہ تھا ’’میک امریکا گریٹ اگین‘‘ یعنی کہ امریکا کو دوبارہ عظیم ملک بنانا ہے۔ اس نعرے میں واقعی سچائی تھی کیوں کہ امریکا میں بعض ایسے صدور بھی برسر اقتدار آئے جن کے ادوار میں امریکا اندرونی طور پر کمزور ہوا اور عالمی سطح پر اس کی قدر و منزلت میں کمی آئی۔
اب صدر ٹرمپ نے امریکا کو ایک بار پھر عظیم ملک بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ وہ اس نعرے کی تکمیل کے لیے بڑی تندہی سے ایسے فیصلے اور اقدامات کر رہے ہیں جن سے امریکی معیشت اور قومی عظمت میں اضافہ ہو۔ اسی منصوبے کے تحت انھوں نے امریکی درآمدات پر مختلف ممالک پر پہلے سے عائد ٹیرف پر نظر ثانی کی ہے۔ ہر ملک کو اس کی امریکا سے وفاداری کی بنیاد پر ٹیرف عائد کیا جا رہا ہے۔
اکثر ممالک کو صدر ٹرمپ سے شکایت ہے کہ وہ ان پر زائد ٹیرف عائد کر رہے ہیں لیکن صدر ٹرمپ اپنی مرضی کے مطابق کام کر رہے ہیں، البتہ زائد ٹیرف عائد کیے جانے والے ممالک میں روس اور چین تو ضرور شامل ہیں کیونکہ ان سے امریکا کی ان بن چل رہی ہے مگر بھارت پر زیادہ ٹیرف کے نفاذ کا معاملہ سمجھ سے باہر ہے کیونکہ وہ تو خاص امریکی مراعات پر پلنے والا ملک ہے۔ اسے امریکا چین سے مقابلے کے لیے تیار کر رہا ہے۔ بہرحال یہ امر مودی کی ناکام خارجہ پالیسی کا واضح عکاس ہے۔ بس اب کچھ ہی ممالک سے ٹیرف کا معاملہ طے ہونا باقی رہ گیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں یہ بھی وعدہ کیا تھا کہ وہ دنیا سے تمام لڑائیاں اور تنازعات کو ختم کرا دیں گے خیر سے انھوں نے پاک بھارت جنگ اور کمبوڈیا سے تھائی لینڈ کی جنگ ختم کرا دی ہے لیکن یہ وہ جنگیں تھیں جو ان کی صدارتی مہم کے دوران موجود نہیں تھیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ان کی ناک کے نیچے جو لڑائیاں اور تنازعات عرصے سے چل رہے ہیں اور جنھیں ختم کرانا ہی اصل مسئلہ ہے، جیسے غزہ کا قتل عام اور یوکرین کے بقا کی جنگ بدستور جاری ہے۔ دراصل یہی تو اس وقت وہ جنگیں ہیں جن کی وجہ سے پوری دنیا میں ہلچل مچی ہوئی ہے اور ہزاروں معصوم لوگ مارے جا رہے ہیں۔
صدارت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ضرور ٹرمپ نے ان کے خاتمے کے لیے بیانات دیے تھے اور اقدامات بھی کیے تھے مگر اب تو وہ خاموش تماشائی بنے ان جنگوں کا نظارہ کر رہے ہیں۔ نیتن یاہو روز ہی فلسطینیوں کا قتل عام کر رہا ہے پوری دنیا نیتن یاہو سے مطالبہ کر رہی ہے کہ وہ اب بس کرے۔ سلامتی کونسل میں بھی اس جنگ کو رکوانے کے لیے کئی ممبر ممالک کی جانب سے قراردادیں پیش کی جا چکی ہیں مگر انھیں ٹرمپ حکومت کی جانب سے ویٹو کر دیا گیا۔ یہ کہنا مذاق ہے کہ کہاں ٹرمپ نے جنگیں ختم کرانے کا وعدہ کیا تھا مگر اب وہ خود ہی اس قتل عام کو دراز کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔
ادھر یوکرین کی جنگ بھی جاری و ساری ہے اس معاملے میں بھی انھوں نے شروع میں ضرور پیش رفت دکھائی تھی مگر اب وہ سارا زور پیوتن پر لگا رہے ہیں کہ وہ حملے روکے مگر خود یورپی ممالک کو ترغیب دے رہے ہیں کہ وہ روس پر حملے کریں۔ اس سلسلے میں وہ جدید اسلحہ بھی فراہم کر رہے ہیں۔ اس طرح یہ جنگ ختم ہونے کے بجائے دوسرے ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ یوں دیکھا جائے تو ٹرمپ اپنے انتخابی وعدوں سے مکمل طور پر دور ہوتے جا رہے ہیں۔ اب اصل مسئلہ دیرینہ عالمی تنازعات کا ہے جو دہائیوں سے جاری ہیں مگر ان کے خاتمے یا حل کی صورت نظر نہیں آ رہی ہے۔
ان میں سرفہرست کشمیریوں کی حق خود ارادیت کا معاملہ اور دوسرا فلسطینیوں کے لیے ایک علیحدہ وطن کا مسئلہ ہے جب سے ٹرمپ دوبارہ اقتدار میں آئے ہیں خیر سے کئی دفعہ کشمیر کے مسئلے کا ذکر کر چکے ہیں اپنے پہلے دور میں تو وہ اس مسئلے کو حل کرانے کے لیے مصالحت کار کا کردار ادا کرنے کے لیے بھی تیار تھے جس پر بھارت بہت ناراض تھا۔ بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے کشمیر کے مسئلے پر اب تک پاکستان اور بھارت میں کئی جنگیں ہو چکی ہیں۔
حالیہ پاک بھارت جنگ کو ختم کرانے کا کریڈٹ ٹرمپ ضرور لے رہے ہیں مگر پاکستان نے اس دفعہ بھارت کو ایسی بری شکست سے دوچار کیا ہے کہ اس نے خود ہی جنگ بند کرنے کی درخواست کی تھی جسے پاکستان نے قبول کر لیا تھا، تاہم اس کا کریڈٹ ٹرمپ لے رہے ہیں جس کا وہ بار بار ذکر کرتے رہتے ہیں جس پر بھارت خاموش ہے۔ اس جنگ میں شکست پر بھارتی حزب اختلاف مودی پر سوالوں کی بوچھاڑ کر رہی ہے مگر وہ خاموش ہیں۔ اس وقت پاکستان امریکا کی گڈ بک میں ہے اور ٹرمپ کی مہربانیاں جاری ہیں۔ انھوں نے پاکستان کو بہت مناسب ٹیرف دیا ہے امریکی نائب صدر کا وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے اکثر ٹیلی فونک رابطہ رہتا ہے پھر ابھی اسحاق ڈار امریکا کا کامیاب دورہ کرکے واپس لوٹے ہیں انھوں نے بیان دیا ہے کہ اس وقت پاکستان کے امریکا سے مثالی تعلقات استوار ہو گئے ہیں۔
پچھلے دور میں ٹرمپ اکثر پاکستان پر گرجتے اور برستے رہتے تھے وہ افغان جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو کوئی وقعت نہیں دیتے تھے بلکہ انھوں نے تو یہاں تک کہا تھا کہ پاکستان نے افغانستان میں دہشت گردی کو ختم کرانے میں مدد کرکے کوئی احسان نہیں کیا کیونکہ امریکا نے اس کی بھاری اجرت بھی ادا کی ہے۔ بہرحال اس وقت ٹرمپ کی مہربانیوں سے ڈر لگتا ہے کہ وہ کہیں پاکستان پر امریکی مفاد کو کوئی نئی ذمے داری ڈالنے کے لیے راستہ ہموار نہ کر رہے ہوں۔ ظاہر ہے ان کی دشمنی روس سے جاری ہے پھر ایران بھی ان کے لیے ایک مسئلہ ہے جن سے وہ ایٹمی معاملے پر مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔
ساتھ ہی ایران کو اپنی شرائط پر راضی کرنا چاہتے ہیں یہ کام وہ خود تو نہیں کر پا رہے ہیں اس لیے شاید وہ اس معاملے میں پاکستان کی مدد لینا چاہ رہے ہیں۔ ادھر وہ روس کو پھر گھیرنے کی پالیسی پر عمل کرنا چاہتے ہیں جس کے لیے پاکستانی سرزمین ان کے لیے آئیڈیل ہے۔ اب کیا پاکستان پھر 60 کی دہائی جیسی امریکی غلامی کی زنجیروں میں جکڑنا پسند کرے گا؟ اب ہرگز ایسا نہیں ہونا چاہیے۔
اب پاکستان عالمی سطح پر ایک نیوٹرل ملک کے طور پر خود کو متعارف کرا چکا ہے۔ صدر ٹرمپ نے حال ہی میں امریکی ایٹمی آبدوزوں کو چین اور روس کے قریب سمندر میں تعینات کرنے کا حکم دیا ہے یہ تو سراسر دونوں حریف ممالک کو طیش دلانے والی بات ہے بعض ماہرین کے مطابق یہ معاملہ سراسر عالمی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ صدر ٹرمپ کا جنگیں ختم کرنے کا وعدہ مذاق بن چکا ہے کاش کہ وہ اپنے قول و فعل کے تضاد پر غور کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کر رہے ہیں انھوں نے ممالک کو رہی ہے کے لیے
پڑھیں:
صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
نیویارک (آئی پی اس )امریکی وزیرخارجہ مارکوروبیو نے متنبہ کیا کہ صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کے ساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منیلا میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ ڈیل کی پاسداری کی، ایران اس وقت امریکا کے ساتھ ڈیل کے لیے تیار نہیں، ممکن ہے کہ اگلے چند دنوں میں اپنا مقف تبدیل کر لے، انہوں نے ساتھ ہی خبردار کیا کہ صورتحال برقرار رہی تو ایران کو اس کی بھاری قیمت چکانا ہوگی۔
مارکو روبیو کا کہنا تھا جب بھی ایران امریکا ڈیل ہوتی ہے اسے ایران کو چلانے والے لوگ خراب کردیتے ہیں، انہوں نے دعوی کیا کہ ایران اب بھی ڈیل کے لیے براہِ راست اور بالواسطہ درخواستیں کر رہا ہے، ایران چاہے تو مشرق وسطی کا امیر ترین ملک بن سکتا ہے لیکن اسے چلانے والے انتہا پسند مذہبی رہنماں کو معاشی معاملات کا علم ہی نہیں، انہیں دلچسپی حزب اللہ، حماس، حوثیوں اور دیگر ملیشیاں کو رقومات دینے میں ہے جن کی سرپرستی میں دہشت گردی ہوتی ہے ۔
مارکو روبیو کا حوثیوں کے حوالے سیکہنا تھا کہ ایران نے حوثیوں کو اس تنازع میں شامل کردیا ہے، اب دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے، امید ہیحوثی حملے روک دیں گے۔مارکو روبیو نے سعودی عرب کو امریکا کا اہم اسٹریٹجک شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدہ کرنا قابل فہم ہے، مارکوروبیو کا کہنا تھا کہ سعودی عرب پر امن سول جوہری پروگرام چاہتا ہے، سعودی عرب یا دیگر ممالک کے ساتھ کسی بھی سول جوہری معاہدے میں حفاظتی اقدامات شامل ہوں گے، سول جوہری معاہدے کانگریس کی منظوری سے ہوں گے۔
مارکوروبیو کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ عالمی فوجداری عدالت میں پاگل اورجنونی لوگ ہیں، امریکا اس کا حصہ نہیں بنے گا، اگر اگر لوگ اس احمق تنظیم کا حصہ بننا چاہتے ہیں تو وہ ایسا کر سکتے ہیں لیکن ہم اس کا حصہ نہیں بنیں گے اور وہ امریکی شہریوں پر اپنے دائرہ اختیار کا اطلاق نہیں کر سکیں گے۔ یوکرین روس جنگ سے متعلق امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ روس یوکرین جنگ میں بہت خونریزی ہوئی، یوکرین نے اس کی بہت بھاری قیمت اداکی ہے، امریکا یوکرین جنگ کے خاتمیکے لیے تعمیری کردارادا کرنیکے لیے تیار ہے۔ چین کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے مارکوروبیو کا کہنا تھا کہ چین کیساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا اگلی خبرپاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم