امریکی جریدے بلومبرگ نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دورۂ امریکہ کی دعوت اس خدشے کے باعث مسترد کر دی کہ انہیں وہاں فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کروائی جا سکتی ہے۔
  فون کال کی تفصیلات 
رپورٹ کے مطابق 17 جون کو مودی اور ٹرمپ کے درمیان 35 منٹ طویل ٹیلی فونک گفتگو ہوئی، جس میں ٹرمپ نے مودی کو جی 7 سمٹ کے بعد امریکہ آنے کی دعوت دی۔ تاہم مودی نے دعوت قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

ممکنہ ملاقات کا خدشہ
بلومبرگ کا کہنا ہے کہ نریندر مودی کو اندیشہ تھا کہ امریکہ میں ان کی ملاقات فیلڈ مارشل عاصم منیر سے کروائی جائے گی، جس پر وہ آمادہ نہیں تھے۔

وائٹ ہاؤس کا ردعمل 
رپورٹ کے مطابق اس فون کال کے بعد وائٹ ہاؤس کے رویے میں نمایاں تبدیلی آئی۔ وائٹ ہاؤس نے بعد میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ “بھارت کے ساتھ ہم آہنگی ممکن نہیں” تاہم دونوں ممالک کے درمیان رابطے جاری رہیں گے۔

تجارتی تعلقات میں کشیدگی
بلومبرگ کے مطابق امریکہ کی جانب سے بھارت پر عائد کیے گئے نئے ٹیرف نے دو طرفہ تعلقات کو مزید کشیدہ کر دیا ہے، جو تعلقات کے تابوت میں آخری کیل  ثابت ہوا۔ بھارت نے اب تک امریکی ٹیرف کا کوئی باضابطہ جواب نہیں دیا، جبکہ مودی حکومت امریکہ کی جانب جھکاؤ کی پالیسی کا ازسرنو جائزہ لے رہی ہے۔

Post Views: 6.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔

قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔

دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔

بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔

ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار