Daily Sub News:
2026-07-24@11:50:49 GMT

جب سے فتنہ جیل گیا ملک میں سب ٹھیک ہورہا ہے، عظمی بخاری

اشاعت کی تاریخ: 8th, August 2025 GMT

جب سے فتنہ جیل گیا ملک میں سب ٹھیک ہورہا ہے، عظمی بخاری

جب سے فتنہ جیل گیا ملک میں سب ٹھیک ہورہا ہے، عظمی بخاری WhatsAppFacebookTwitter 0 8 August, 2025 سب نیوز

لاہور(سب نیوز)صوبائی وزیر اطلاعات و نشریات عظمی بخاری نے کہا ہے کہ جب سے فتنہ جیل میں گیا ہے پاکستان میں سب ٹھیک ہورہا ہے۔
صوبائی دارالحکومت کے الحمرا ہال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عظمی بخاری کا کہنا تھا کہ جشن آزادی سے متعلق ایک تقریب کا آج آغاز کیا ہے، جشن آزادی کی مناسبت سے تقریبات جاری ہیں۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو پتہ ہونا چاہیے کہ تحریک آزادی کیا تھی، نوجوانوں کو جشن آزادی کی تقریبات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے، روزانہ کی بنیاد پر آرٹس کونسلز میں جشن آزادی کی تقریبات کا آغاز ہوگا،14اگست پر اہم تقریب حضوری باغ میں ہوگی، حضوری باغ میں پرچم کشائی وزیراعلی مریم نواز خود کریں گے۔
صوبائی وزیر اطلاعات و نشریات کا کہنا تھا کہ ثابت کریں گے کہ زندہ قومیں آزادی کو کس طرح مناتی ہیں، پاکستان نے اپنے سے 6گنا بڑے دشمن کو شکست دی، آج پوری دنیا میں ہمارے شاہینوں کے کارناموں کا ذکر ہورہا ہے، صدرٹرمپ کو ماننا پڑا کہ مسئلہ کشمیر ایک نامکمل ایجنڈا ہے،پاکستان کو دنیا میں سفارتی تنہائی کا شکار کردیا گیا تھا، آج پاکستان کو سفارتی محاذ پر بھی کامیابیاں مل رہی ہیں۔
عظمی بخاری نے کہا کہ آج پاکستان کی جانب کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا، کل تک آنکھیں دکھانے والے نریندر مودی کو آج سبکی کا سامنا کررہا ہے، پاکستان نے چند گھنٹوں میں خود سے کئی گنا بڑے دشمن کو پسپا کیا، معرکہ حق کے فتح کا جشن بھی بھرپور انداز میں منایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ لاہور میں ای وی ٹرام ٹرین چلتی نظر آرہی ہے، لوگ پوچھ رہے ہیں یہ کونسا ملک ہے، 60ہزار سے زائد لوگوں کو اپنی چھت اپنا گھر سکیم کے تحت بلاسود قرض دیے گئے، لوگوں کیلئے اپنی چھت کیا اہمیت رکھتی ہے ہمیں پتہ ہے۔
صوبائی وزیراطلاعات و نشریات نے کہا کہ ہمارے درمیان آٹے میں نمک کے برابر کچھ شرپسند لوگ بھی ہیں، چند شرپسندوں کو 14اگست پر بھی احتجاج کرنے کا شوق اٹھا ہے، یہ شرپسند احتجاج کیلئے خاص دنوں کا انتخاب ہی کیوں کرتے ہیں؟ ایس او کانفرنس ہوتی ہے تو یہ کہتے ہیں اسلام آباد بند کرنے آرہے ہیں۔عظمی بخاری کا کہنا تھا کہ قوم کے بچے باہر نکل کیوں لاٹھیاں کھائیں؟ اپنے بچے باہر بیٹھے ہیں ،لوگوں کے بچے ان کیلئے باہر کیوں نکلیں؟ 5اگست کی تحریک کامیاب نہیں ہوئی، پنجاب کے عوام نے ثابت کردیا کہ فتنہ وفساد کی سیاست سے عاری ہوچکے ہیں،جب سے فتنہ جیل میں گیا ہے پاکستان میں سب ٹھیک ہورہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری آرہی ہے،ایکسپورٹس بہتر ہوئی ہیں، انٹرنیشنل ایجنسیز کہہ رہی ہیں کہ پاکستان آن ٹریک ہے، ان کا ایک ہی مقصد ہے ملک میں فتنہ، ہیجان کیسے پیدا کرنا ہے،لاشوں پر سیاست کیسے کرنی ہے۔صوبائی وزیراطلاعات ونشریات نے کہا کہ نوازشریف سے خواجہ آصف کی ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں، میں بھی بیرون ملک گئی تو مختلف باتیں کی گئیں،کوئی استعفی نہیں دے رہا ،منفی باتیں ہوتی رہتی ہیں، استعفی کسی کی خواہش ہوسکتی ہے،ہم سب عوام کے درمیان موجود ہیں، ان 5سالوں میں پاکستان کو ٹریک پر لائے بغیر ہم کہیں نہیں جائیں گے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرخوارج اور انکے سہولت کاروں سے حکومتی سطح پر بات چیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، سیکیورٹی ذرائع خوارج اور انکے سہولت کاروں سے حکومتی سطح پر بات چیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، سیکیورٹی ذرائع حکومت عمران خان کے بیٹوں کو پاکستان آنے سے نہیں روک سکتی، علیمہ خان حکومت پاکستان نے غزہ کیلئے 200ٹن امدادی سامان کی 18ویں کھیپ روانہ کردی الیکشن کمیشن نے مشعال یوسفزئی کے سینیٹر بننے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ٹرمپ کے 50فیصد ٹیرف نے بھارتی اسٹاک مارکیٹ کو ہلا دیا، سرمایہ کاروں کے 50ارب ڈالر ڈوب گئے بنوں میں آپریشن، کئی مشتبہ افراد زیر حراست، دہشتگردوں کے دو سہولت کاروں کے گھر مسمار TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ جب سے فتنہ جیل نے کہا کہ آزادی کی

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • آپریشن العزم ؛مستونگ کے علاقہ کھڈکوچہ میں کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 4دہشتگرد ہلاک
  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار