چینی تھنک ٹینک نے پاکستان سے متعلق بھارتی فضائیہ کے سربراہ کا بے بنیاد دعویٰ مسترد کردیا ہے۔

چینی تھنک ٹینک چارہار انسٹیٹیوٹ کے سینیئر ریسرچ فیلو پروفیسر چِنگ شی ژونگ نے بھارتی فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل امر پریت سنگھ کے اس دعوے کو بے بنیاد قرار دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ مئی کے اوائل میں ’آپریشن سندور‘ کے دوران بھارتی فضائیہ نے پاکستان کے 5 جنگی طیارے اور ایک بڑا جہاز مار گرایا۔

یہ بھی پڑھیں: پاک فضائیہ کی جانب سے بھارتی فضائیہ کو پہنچائے گئے نقصان کی تفصیلات سامنے آگئیں

پروفیسر چِنگ نے کہا کہ بھارتی دعویٰ ٹھوس شواہد سے محروم ہے اور بین الاقوامی برادری نے اسے بڑے پیمانے پر سوالات کی زد میں رکھا ہے۔ بھارتی حکام نے کسی قسم کا ثبوت، جیسے طیاروں کے ملبے کی تصاویر یا ریڈار مانیٹرنگ ڈیٹا، پیش نہیں کیا، جبکہ پاکستان کی جانب سے بھارتی طیارے مار گرائے جانے کے بارے میں پہلے ہی تفصیلی شواہد پیش کیے جاچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی فضائیہ کے سربراہ کے یہ بیانات مضحکہ خیز، ناقابلِ یقین اور ناقابلِ فہم ہیں، جنہیں ’خود ساختہ تفریح‘ کہا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ بھارت، پاکستان جھڑپ کو تین ماہ سے زیادہ گزر چکے ہیں اور بھارت آج تک کوئی ثبوت فراہم نہیں کرسکا کہ پاکستانی طیارے مار گرائے گئے ہوں۔ اس کے برعکس پاکستان نے جھڑپ کے فوراً بعد بین الاقوامی میڈیا کو تفصیلی تکنیکی رپورٹ پیش کی۔

یہ بھی پڑھیں: ’ ہم نے پاکستانی حملوں کو ناکام بنایا‘ انڈین چیف آف ڈیفنس اسٹاف کا دعویٰ

پروفیسر چِنگ شی ژونگ نے مزید کہا کہ عالمی رہنماؤں، بھارتی سیاستدانوں اور غیر ملکی انٹیلیجنس رپورٹس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بھارت کو متعدد طیاروں کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارتی جانب سے کوئی پاکستانی جنگی طیارہ نشانہ نہیں بنایا گیا، جبکہ پاکستان نے 6 بھارتی جنگی طیارے مار گرائے اور ایس-400 فضائی دفاعی نظام کی پوزیشنیں تباہ کیں، جو ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news بھارتی ایئرچیف پاکستان تھنک ٹینک چین دعویٰ مسترد.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بھارتی ایئرچیف پاکستان تھنک ٹینک چین دعوی مسترد بھارتی فضائیہ کے سربراہ تھنک ٹینک

پڑھیں:

جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان

برلن: جرمنی نے بحیرۂ احمر میں تعینات اپنے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے ممکنہ مشن کی فوری ضرورت باقی نہیں رہی۔

جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق واپس بلائے جانے والے جہازوں میں ’فلڈا‘ نامی مائن ہنٹر اور ’موزیل‘ نامی سپورٹ شپ شامل ہیں۔ دونوں جہاز جون میں نہرِ سویز کے راستے بحیرۂ احمر پہنچے تھے اور اس وقت جبوتی میں تعینات تھے۔

ان جہازوں کے ساتھ تقریباً 140 اہلکار بھی موجود تھے، جن میں بارودی سرنگیں صاف کرنے والے غوطہ خور، خودکار زیرِ آب نظام کے ماہرین اور سکیورٹی ٹیمیں شامل تھیں۔

جرمن حکام کے مطابق ان بحری جہازوں کو اس خدشے کے پیش نظر تیار رکھا گیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھاتا ہے تو انہیں فوری کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی مشن کا انحصار سیاسی اور سفارتی صورتحال کے ساتھ ساتھ ایران اور عمان سمیت علاقائی ممالک کی رضامندی پر ہوگا۔

وزارتِ دفاع نے کہا کہ یہ بحری مشن کسی جنگی کارروائی کا حصہ نہیں تھا بلکہ یورپی ممالک کی جانب سے عالمی بحری راستوں پر آزادانہ جہاز رانی کے تحفظ کی کوششوں کا حصہ تھا۔

اگرچہ یہ دونوں جہاز واپس بلائے جا رہے ہیں، تاہم جرمنی بدستور یورپی یونین کے آپریشن اسپائیڈیز میں شامل رہے گا، جس کا مقصد بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو یمن کے حوثی گروپ کے حملوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔

اس کے علاوہ جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ لبنان کے ساحل پر اقوام متحدہ کے امن مشن یونیفل میں اپنی بحری شمولیت بھی 2026 کے اختتام تک برقرار رکھے گا۔

جرمن حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ فوری خطرات میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں عالمی جہاز رانی ایک مرتبہ پھر متاثر ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ
  • اسحاق ڈار اور چینی وزیر خارجہ وانگ ای کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال
  • پاکستان نے چین کے لئے نیا سفیر نامزد کردیا
  • ایس سی او اجلاس کے موقع پر پاک چین وزرائے خارجہ کی ملاقات، علاقائی امن اور تعاون پر تبادلۂ خیال
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال