ہریانہ: سکھ فارجسٹس کے سربراہ گرپتونت سنگھ پنوں نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ پاکستانی فوج کے ساتھ مل کر بھارت کا مقابلہ کریں گے۔ ویڈیولنک کے ذریعے پریس کانفرنس کرتے ہوئے، گرپتونت سنگھ نے اعلان کیا کہ دلی خالصتان کا حصہ بنے گا اور وہاں خالصتان کے قیام کے حوالے سے 17 اگست کو امریکا میں ریفرنڈم منعقد ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا عزم یہ ہے کہ دلی جلد ہی خالصتان کا حصہ بنے گا۔
خالصتان کی تحریک اور بھارت کے خلاف موقف
گرپتونت سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کے مختلف علاقے جیسے ہماچل پردیش، ہریانہ، راجستھان، اتر پردیش کے کچھ حصے اور دلی خالصتان میں شامل ہیں، اور سکھوں کو اپنی آزادی کی تحریک میں شمولیت اختیار کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے پاکستان پر حملہ کر کے بے گناہ خواتین اور بچوں کی جانیں لی ہیں، اور اس حملے کے بدلے وہ پاکستانی فوج کے ساتھ مل کر بھارت کا مقابلہ کریں گے۔
پاکستان اور عالمی سیاست
گرپتونت سنگھ نے  فیلڈ مارشل عاصم منیر کے وائٹ ہاؤس میں مدعو ہونے کو پاکستان کے لیے اعزاز قرار دیا، اور کینیڈا کے وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے بھارت کو ناخوشگوار واقعات کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ ان کے مطابق، بھارتی حکومت مسلسل سکھوں پر پابندیاں عائد کر رہی ہے، جس کی وجہ سے سکھ کمیونٹی میں مزید عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے۔

Post Views: 7.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: گرپتونت سنگھ

پڑھیں:

فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد

فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔

اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔

60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔

فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔

اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔

دوسری جانب  52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی