انڈیا: ضعیف خاتون کو ‘چڑیل’ قرار دے کر قتل کردیا گیا، منصوبہ 5 سال پرانا تھا
اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT
بھارت کی ریاست جھارکھنڈ کے ضلع جمشیدپور میں 60 سالہ بھاوی سنگھ کو اُن کے دور کی رشتہ دار خواتین نے مبینہ طور پر ‘چڑیل’ قرار دے کر گلا کاٹ کر قتل کر دیا۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ 4 اگست کو اس وقت پیش آیا جب بھاوی سنگھ کُیانی گاؤں کے کامن سروس سینٹر (CSC) میں پنشن وصول کرنے جا رہی تھیں۔
بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق دھوبنی گاؤں کی 3 خواتین نے انہیں پیچھے سے تعاقب کیا اور ایک ملزمہ نے مقامی طور پر ’گولی‘ کہلانے والے نوکیلے ہتھیار سے ان کے گلے اور گردن پر وار کیا۔ بعد ازاں ان کی لاش قریبی جنگل میں پھینک دی گئی۔
یہ بھی پڑھیے شوہر کو کیسے قتل کیا جائے؟ بھارتی خاتون نے یوٹیوب سے طریقہ سیکھ کر ’کامیاب واردات’ کر ڈالی
پولیس نے تینوں خواتین کو گرفتار کر کے ان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے اور انسداد جادو ٹونا ایکٹ کی دفعات بھی شامل کی ہیں۔
اہلِ خانہ کا مؤقف
متوفیہ کے بیٹے سدھیر سنگھ نے ایف آئی آر میں بتایا کہ ملزم خواتین اُن کی والدہ کو برسوں سے ‘ڈائن’ کہہ کر ہراساں کر رہی تھیں۔ یہ سب ان کے والد کی وفات (6 تا 7 سال قبل) کے بعد شروع ہوا۔ ان کے مطابق، ’جب بھی گاؤں میں کوئی حادثہ یا بیماری ہوتی، لوگ میری ماں کو موردِ الزام ٹھہراتے۔ قاتل خواتین کئی بار قتل کی دھمکیاں بھی دے چکی تھیں۔‘
یہ بھی پڑھیے مرد نے پارٹنر اور اسکی 3 سالہ بیٹی کو گلا گھونٹ کر قتل کیا، لپ اسٹک سے دیوار پر اعتراف جرم تحریر کیا
بھاوی سنگھ کے بھتیجے گوپی ناتھ سنگھ نے کہا کہ پورا گاؤں ان کے خلاف ہو گیا تھا اور پولیس اس واقعے میں جادو ٹونے کے عنصر کو کم کر کے پیش کر رہی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ یہ مکمل طور پر چڑیل قرار دینے کا کیس ہے۔
پولیس کا مؤقف
انویسٹی گیشن ٹیم کے انچارج افسر منورنجن کمار کا کہنا ہے کہ یہ قتل صرف جادو ٹونے کے الزام سے جڑا ہوا نہیں بلکہ فریقین کے درمیان 2 سال سے ذاتی جھگڑا بھی چل رہا تھا۔ پولیس کے مطابق، ملزمان اور مقتولہ دونوں بھومِج آدیواسی برادری سے تعلق رکھتے تھے اور ایک ہی گاؤں میں رہائش پذیر تھے۔
پس منظر
مقتولہ کی ایک بہو نے بتایا کہ 5 سال قبل بھی ملزمان گھر میں گھس کر ان پر تشدد کر چکی تھیں اور اسی وقت سے قتل کی منصوبہ بندی کر رہی تھیں۔ اس کے علاوہ، بہو کو بھی گاؤں میں جادو ٹونے کا الزام لگا کر بدنام کیا گیا، مگر گاؤں کی میٹنگ میں کوئی ان کا ساتھ دینے کو تیار نہ ہوا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت خواتین کے خلاف جرائم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت خواتین کے خلاف جرائم کے مطابق قتل کی
پڑھیں:
میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
چین کی معروف الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکل ساز کمپنی ’بی وائی ڈی ‘ نے کہا ہے کہ سندھ کے علاقے غارو میں قائم کیا جانے والا اس کا 150 ملین ڈالر مالیت کا اسمبلنگ پلانٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
جبکہ کمپنی پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے کام تیز کر رہی ہے۔
کمپنی کے مطابق پلانٹ میں تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جبکہ اس وقت جدید مشینری کی تنصیب، کمیشننگ اور دیگر تکنیکی مراحل جاری ہیں تاکہ عالمی معیار کے مطابق پیداوار کا آغاز کیا جا سکے۔
پلانٹ کی سالانہ پیداواری صلاحیت 25 ہزار گاڑیاں ہوگیبی وائی ڈی پاکستان، میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی ) کے وائس پریزیڈنٹ سیلز اینڈ اسٹریٹجی، دانش خالق نے بتایا کہ تقریباً 2 سال سے بھی کم عرصے میں تیار ہونے والا یہ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے تیز ترین آٹو مینوفیکچرنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی، شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ آج مارکیٹ میں آئے گی
انہوں نے کہا کہ پلانٹ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سالانہ تقریباً 25 ہزار نیو انرجی وہیکلز اسمبل کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جس سے ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔
پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی جلد متعارف کرانے کا ہدفدانش خالق کے مطابق کمپنی کی اولین ترجیح پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد صارفین تک پہنچانا ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ باقاعدہ پیداوار شروع کرنے سے قبل مشینری کی جانچ، پیداواری آزمائش اور معیار کی تصدیق کے متعدد مراحل مکمل کیے جائیں گے تاکہ ہر گاڑی کمپنی کے عالمی معیار پر پوری اترے۔
2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی سب سے بڑی کھیپ پاکستان پہنچ گئیاس پیش رفت سے قبل بی وائی ڈی پاکستان نے گزشتہ ہفتے بحری جہاز کے ذریعے 2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ درآمد کی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس درآمد کا مقصد صارفین کو بروقت گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنانا اور ملک بھر میں موجود ڈیلر نیٹ ورک میں مطلوبہ تعداد میں گاڑیاں دستیاب رکھنا ہے۔
ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں اضافہبی وائی ڈی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران نیو انرجی وہیکلز میں صارفین کی دلچسپی مسلسل بڑھی ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔
مزید پڑھیں:چین کی سب سے بڑی کارساز کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے کے لیے پُرعزم
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بی وائی ڈی گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات روایتی پیٹرول یا ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں 75 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں، جبکہ حفاظت، کارکردگی اور قابلِ اعتماد معیار بھی برقرار رہتا ہے۔
چارجنگ انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری جاریدانش خالق نے بتایا کہ بی وائی ڈی پاکستان نے ہبکو گرین پرائیویٹ لمیٹڈ (ایچ جی ایل) کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ملک بھر میں نیو انرجی وہیکلز کے لیے چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع کا کام بھی جاری رکھا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب تک کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,300 کلومیٹر طویل روٹ پر 19 پبلک ڈی سی فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں مزید شہروں، اہم شاہراہوں اور دوسرے درجے کے شہری مراکز تک اس نیٹ ورک کو توسیع دی جائے گی۔
بی وائی ڈی نے 2024 میں مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے ساتھ اشتراک کے ذریعے پاکستان کی مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں باضابطہ طور پر قدم رکھا تھا۔
گزشتہ سال کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں اسمبل ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی جولائی یا اگست 2026 تک متعارف کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 2030 تک فروخت ہونے والی 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی
ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکلز کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔
حکومت کی جانب سے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں بہتری ایسے عوامل ہیں جو اس شعبے میں سرمایہ کاری اور صارفین کی دلچسپی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔
بی وائی ڈی کا غارو پلانٹ بھی اسی بدلتے ہوئے رجحان کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آٹو انڈسٹری، روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الیکٹر گاڑیوں الیکٹرک گاڑیاں ایندھن بی وائی ڈی پیداواری ٹیکنالوجی نیو انرجی وہیکلز