لاہور ہائیکورٹ کا سرنڈر کیے بغیر زرتاج گل کی درخواست پر سماعت سے انکار، پیشی کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
لاہور ہائیکورٹ نے سرنڈر کیے بغیر پی ٹی آئی رہنما زرتاج گل کی درخواستوں پر سماعت سے انکار کرتے ہوئے پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
زرتاج گل کی 9 مئی کے تین مقدمات میں سزاؤں کے خلاف اپیلوں پر بطور اعتراض لاہور ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے زرتاج گل کو پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیے کہ زرتاج گل کو پہلے پیش کریں پھر اپیل سنیں گے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے رجسٹرار آفس کے اعتراض کو برقرار رکھا۔
پی ٹی آئی رہنما زرتاج گل کی سزا کے خلاف اپیلوں پر لاہور ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس نے اعتراض عائد کر دیا تھا۔ رجسٹرار آفس کا اعتراض تھا کہ زرتاج گل سزا یافتہ ہیں لہٰذا پہلے سرنڈر کریں کیونکہ سرنڈر کیے بغیر اپیل قابل سماعت نہیں۔
زرتاج گل نے سینیئر قانون دان میاں محمد حسین چوٹیا اور بیرسٹر علی ظفر کی وساطت سے اپیلیں دائر کی ہیں۔ اے ٹی سی فیصل آباد کے نو مئی واقعات میں تین فیصلوں کے خلاف تین الگ الگ اپیلیں دائر کی گئی ہیں۔
تینوں اپیلوں پر رجسٹرار آفس کی طرف سے زرتاج گل کے سرنڈر نہ کرنے کا اعتراض لگایا گیا ہے۔ اے ٹی سی فیصل آباد نے پی ٹی آئی رہنما زرتاج گل کو تین الگ الگ مقدمات میں 10، 10 سال سزا سنا رکھی ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان لاہور ہائیکورٹ زرتاج گل کی
پڑھیں:
نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ جاری کردیاگیا
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ جاری کردیاگیا۔
نجی ٹی وی چینل جیونیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ عدالتیں میڈیا کی پذیرائی یا عوامی مقبولیت کے کیلئے فیصلے نہیں کرسکتیں ،عدالت کا بنیادی فرض آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا ہے،قانون سے ہٹ کردائرہ اختیار کو اختیار کرنا یافرض کر لینا عدالتی اصولوں کے منافی ہے،عدالت نہ غیرقانونی دائرہ اختیار استعمال کر سکتی ہے، نہ قانونی دائرہ اختیار سے دستبردار ہو سکتی ہے،دائرہ اختیار کا تعین صرف آئین اور قانون کرتے ہیں۔
سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 175کے تحت ہر عدالت صرف وہی دائرہ اختیار استعمال کرسکتی ہے جو آئین یا قانون نے دیا ہو، آئین اور قانون کی مقررہ حدود سے تجاوز اختیارات سے ناجاز تجاوز کے مترادف ہے،دائرہ اختیار کے بغیر دیا گیا فیصلہ کالعدم اورغیرموثر ہوتا ہے،دائرہ اختیار کے بغیر فیصلے کو رم نان جوڈائس کے اصول کی زد میں آتے ہیں،ہر عدالت اپنے آئینی اور قانونی دائرہ اختیار کی پابند ہے،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے دائرہ ہائے اختیار الگ الگ ہیں،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے اختیارات ایک دوسرے پر حاوی نہیں ،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ ایک دوسرے کے اختیار میں مداخلت بھی نہیں کر سکتے۔
اداکارہ روما مائیکل اداکار شان بیگ سے شادی کے بندھن میں بندھ گئیں
عدالت نے کہاکہ ایک ہی مقدمے پردو متوازی عدالتی دائرہ ہائے اختیار قانون میں قابل قبول نہیں،ایک ہی مقدمے میں ضمانت سپریم کورٹ اوراپیل وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چل سکتی،جہاں قانون اپیل کا حق فراہم نہ کرے وہاں فریق اپنے پسند سے نیا قانونی راستہ اختیار نہیں کرسکتا، قانون فورم شاپنگ یعنی پسند کی عدالت منتخب کرنے کے رجحان کی اجازت نہیں دیتا، صرف فریقین کی خواہش یا رضا مندی سے عدالت دائرہ اختیار استعمال نہیں کرسکتی،عدالت فریقین کی منشاء یا خواہش پر لامحدود دائرہ اختیار استعمال نہیں کر سکتی۔
آپریشن العزم ؛مستونگ کے علاقہ کھڈکوچہ میں کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 4دہشتگرد ہلاک
مزید :