لگژری گاڑیوں پر کم ٹیکس ، ایف بی آر کا مؤقف سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سوشل میڈیا پر لگژری گاڑیوں پر مبینہ کم ٹیکس وصولی کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے ان خبروں کو “بے بنیاد پراپیگنڈا” قرار دیا ہے۔
ایف بی آر حکام کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرتی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ **2023 ماڈل کی ایک ٹویوٹا لینڈ کروزر صرف 17,635 روپے ٹیکس پر کلیئر** کی گئی، جو حقائق کے منافی ہے۔
حقیقت کیا ہے؟
مذکورہ لینڈ کروزر کی اصل قیمت 10 کروڑ 50 لاکھ روپے مقرر کی گئی تھی۔
اس پر مجموعی طور پر 4 کروڑ 72 لاکھ روپے کا ٹیکس وصول کیا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ کسٹمز حکام نے ہر گاڑی کی اصل قیمت کا درست تعین کیا** اور کسی قسم کی مالی بے ضابطگی نہیں ہوئی۔ ایف بی آر کے مطابق، قومی خزانے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
ایف بی آر کا کہنا ہے کہ یہ منفی مہم دراصل **”فیس لیس کسٹمز” سسٹم کو متنازع بنانے کی کوشش ہے، جو کہ درآمدی عمل کو **زیادہ شفاف، منظم اور انسانی مداخلت سے پاک بنانے کے لیے متعارف کرایا گیا تھا۔
ایف بی آر حکام نے بتایا کہ ادارہ ان عناصر کے خلاف **سائبر کرائم قوانین کے تحت کارروائی پر غور کر رہا ہے**، جو جھوٹی معلومات پھیلا کر عوام کو گمراہ اور ادارے کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔