27ویں آئینی ترمیم کا مجوزہ مسودہ سامنے آگیا،سپریم کورٹ کے اختیارات میں کمی، آرمی چیف کو مزید بااختیار بنانے کی تجویز
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: 27ویں آئینی ترمیم کا ممکنہ مسودہ میڈیا کے سامنے آگیا ہے جس میں بتایا گیا ہےکہ ملک کے عدالتی اور عسکری ڈھانچے میں بڑی تبدیلیوں کی تجویز دی گئی ہے، مجوزہ ترمیم کے تحت سپریم کورٹ کے آئینی اختیارات واپس لے کر انہیں ایک نئی وفاقی آئینی عدالت کے سپرد کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے جب کہ آرمی چیف کو چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیا عہدہ دینے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کےمطابق مجوزہ آئینی ترمیم میں آرٹیکل 42، 59، 63اے، اور 175 تا 191 میں تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں، آئین کے آرٹیکل 184 کو مکمل طور پر ختم کرنے کی تجویز ہے، جس سے سپریم کورٹ کا ازخود نوٹس کا اختیار ختم ہوجائے گا, آئینی مقدمات کی سماعت اب سپریم کورٹ کے بجائے نئی وفاقی آئینی عدالت کرے گی جب کہ سپریم کورٹ صرف اپیلوں اور عام مقدمات کی عدالت کے طور پر باقی رہے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سپریم کورٹ
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔