روس نے یوکرین جنگ کے خاتمے کیلیے لچک دکھائی ہے، امریکی نائب صدر
اشاعت کی تاریخ: 25th, August 2025 GMT
واشنگٹن:
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ روس نے یوکرین کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے اہم رعایتیں دی ہیں اور صدر ٹرمپ کے ساتھ مذاکرات میں لچک دکھائی ہے۔
جے ڈی وینس نے گزشتہ روز امریکی نشریاتی ادارے کے پروگرام میٹ دی پریس میں انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ روس نے پہلی بار ساڑھے تین سالہ جنگ میں اپنے اہم مطالبات پر لچک دکھائی اور جنگ ختم کرنے کے لیے کچھ شرائط پر بات چیت کی۔
تاہم امریکی نائب صدر نے اس بات کا بھی اقرار کیا کہ روس ابھی تک مکمل طور پر اس جنگ کے خاتمے کے لیے تیار نہیں ہے۔
وینس نے کہا کہ روس نے یوکرین کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کا اعتراف کیا ہے اور یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ وہ کیف میں کٹھ پتلی حکومت قائم نہیں کر سکتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ روس نے یوکرین کے تحفظ کے لیے سیکیورٹی ضمانتوں کی ضرورت کو بھی تسلیم کیا ہے۔
نائب صدر نے اس بات کا عندیہ بھی دیا کہ روس پر مزید پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں، لیکن یہ فیصلہ ہر صورت حال کے مطابق کیا جائے گا۔
دوسری طرف، روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے امریکی قانون سازوں کے الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ روس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا احترام کرتا ہے کیونکہ وہ امریکی مفادات کے دفاع میں کھڑے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: روس نے یوکرین کہ روس نے کے لیے
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔