تہران:

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکی دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تابعداری نہیں کریں گے اور امریکی مسئلہ ناقابل حل ہے۔

ایرانی خبرایجنسی تسنیم کی رپورٹ کے مطابق سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے تہران کے امام خمینی حسینیہ میں امام رضا کے یوم شہادت کی مناسبت سے منعقدہ جلسے خطاب کیا جہاں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایران کے دشمنوں کو فوجی حملوں میں شکست اور ایرانی قوم، سرکاری عہدیداروں اور مسلح افواج کی مزاحمت اور اتحاد سے احساس ہوگیا ہے کہ نہ تو عوام اور نہ ہی اسلامی جمہوریہ کو جنگ یا تابعداری کے لیے دباؤ کے ذریعے محکوم نہیں بنایا جاسکتا ہے۔

خبردار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دشمن اسی لیے اب ایران کے اندر انتشار پھیلا کر اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ تمام شہری، سرکاری ملازمین، مفکرین اور ادیب قوم کے مقدس دفاع اور عظیم اتحاد کو مضبوط اور پائیدار بنانے کے لیے اپنی ذمہ داری ادا کریں۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ مسلط کی گئی 12 روزہ جنگ کے دوران ایرانی قوم نے دنیا کے آنکھوں کے سامنے عظیم وقار کے ساتھ استقامت کا مظاہرہ کیا۔

امریکی عزائم پر سوال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف گزشتہ 45 برسوں کے دوران امریکی جارحیت کی حقیقی وجہ کیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ امریکی حکومتیں ایران کے خلاف دہشت گردی، انسانی حقوق، جمہوریت یا خواتین کے حقوق کے نعروں کے پیچھے اصل محرکات چھپاتے رہی ہیں اور موجودہ امریکی انتظامیہ نے حقیقت کا کھلم کھلا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا چاہتا ہے کہ ایران ہماری تابعداری کرے۔

خامنہ ای نے کہا کہ ایرانی عوام اس طرح کی توقعات کو کسی صورت برداشت نہیں کریں گے اور پوری قوت کے ساتھ مزاحمت کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ صہیونی حکومت نے امریکی پشت پناہی کے ساتھ اسلامی جمہوری ایران کو ختم کرنے کی کوشش کی لیکن ایران قوم کی جانب سے دی گئی شرم ناک شکست میں پھنس گئی ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر نے بتایا کہ دشمن کی جانب سے عوام اور ایرانی حکومت کے درمیان دراڑ ڈالنے کی توقعات مسترد کرتے ہیں اور عوام اپنی مسلح افواج اور انتظامیہ کے ساتھ مستعدی کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دشمن کو جب سے یہ احساس ہوا ہے کہ ایران کو جنگ کے ذریعے شکست نہیں دے سکتے ہیں تو اس نے ملک کے اندر تقسیم پیدا کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

آیت اللہ خامنہ نے ملک میں موجود بیرونی ایجنٹوں، صہیونی دباؤ اور غیرذمہ دارانہ تجاویز دینے والوں سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے انتشار کو ہوا دی جاسکتی ہے جبکہ ایرانی عوام کو سیاسی اور سماجی اختلافات کے باوجود اتحاد برقرار رکھنے پر سراہا۔

ایرانی سپریم لیڈر نے اپنے خطاب کے دوران غزہ میں اسرائیل کی وحشیانہ کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل جنگی جرائم کا مرتکب ہوچکا ہے جہاں بچے بھوک کا شکار ہیں اور انہیں شہید کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ غزہ میں امداد کے حصول کے لیے قطار میں کھڑے فلسطینیوں کو شہید کیا جا رہا ہے، اس ظلم کی مثالی انسانی تاریخ میں نہیں ملتی ہے۔

آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ اسرائیل کے ظالمانہ اقدامات کی زبانی مذمت کافی نہیں ہے بلکہ اس کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: آیت اللہ خامنہ ای انہوں نے کہا کہ کرتے ہوئے کہا خامنہ ای نے سپریم لیڈر ایران کے کہ ایران کے ساتھ

پڑھیں:

جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا

تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔

غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔

سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔

ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔

ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔

تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • پٹرول کی قیمت میں 4 روپے اضافے پر شہری مایوس، فوری ریلیف کا مطالبہ
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی