Express News:
2026-07-24@14:37:12 GMT

پروفیسر غنی جاوید

اشاعت کی تاریخ: 31st, August 2025 GMT

’’اوئے انچارج صاحب اوپر دیکھو‘‘ آواز بھاری اور بدتمیز تھی اور ہمارے پورے دفتر میں اتنی بدتمیز اور بھاری آواز صرف ایک شخص کی تھی اور اس کا نام اکبر علی بھٹی تھا‘ وہ ہمارے اخبار کے مالک تھے‘بھٹی صاحب سیاست دان تھے‘ وہاڑی سے ایم این اے تھے‘ ملٹی پل بزنس کرتے تھے جن میں زمینداری سے ادویات تک کا کاروبار شامل تھا۔

زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے تاہم امارت نے ان کی کم علمی پر پردہ ڈال دیا تھا‘ 1990 میں انھیں کسی نے بتا دیا پوری حکومت اور بیوروکریسی صرف صحافیوں سے ڈرتی ہے اگر آپ دو چار کروڑ لگا کر کوئی اخبار خرید لیں یا نیا اخبار نکال لیں تو آپ کی بلے بلے ہو جائے گی۔

ضیاء شاہد مرحوم اس زمانے کے چوٹی کے صحافی تھے‘ اکبر علی بھٹی نے ان سے رابطہ کیااور دونوں نے ڈیلی پاکستان کے نام سے ملک کا تیسرا بڑا اخبار نکال لیا‘ پاکستان سے پہلے ملک کی سیاسی اور صحافتی افق پر دو اخبارات کی اجارہ داری تھی‘ڈیلی پاکستان نے یہ اجارہ داری بھی توڑ دی اور صحافیوں کی تنخواہوں میں بھی اضافہ کر دیا۔

ضیاء شاہد مرحوم انقلابی اور کرشماتی شخصیت تھے‘ یہ پرانے لوگوں کی بجائے نوجوانوں کو موقع دیتے تھے‘ میرے سمیت اس وقت صحافت میں جتنے بھی لوگ ہیں یہ کسی نہ کسی حوالے سے ضیاء شاہد مرحوم کی دریافت ہیں‘ بہرحال پاکستان اخبار نکلا اور اس نے روایتی صحافت کے تمام بت توڑ دیے۔

لیکن بدقسمتی سے یہ سلسلہ زیادہ دیر تک نہ چل سکا‘ ضیاء شاہد نے پاکستان اخبار چھوڑ دیا اور خبریں کے نام سے اپنا ادارہ بنا لیا‘ اکبر علی بھٹی نے اس کے بعد عباس اطہر مرحوم کو ایڈیٹر بنا دیا‘ عباس اطہر شاہ جی کہلاتے تھے اور کمال انسان اور صحافی تھے۔ 

میں 1992 میں شاہ صاحب سے متعارف ہوا تھا لیکن بدقسمتی سے میں ان کے ساتھ زیادہ عرصہ کام نہیں کر سکا مگر اس کے باوجود شاہ صاحب کے اثرات آج تک قلم اور ذہن دونوں میں موجود ہیں‘ میں آج تک یہ فیصلہ بھی نہیں کر سکا شاہ صاحب ایڈیٹر بڑے تھے یا انسان۔ 

بہرحال قصہ مختصر شاہ صاحب ڈیلی پاکستان میں آئے تو یہ اپنے ساتھ اپنی ٹیم بھی لے آئے‘ شاہ صاحب کیوں کہ ان دنوں نوائے وقت سے منسلک تھے چناں چہ ان کی ساری ٹیم نوائے وقت سے امپورٹ کی گئی تھی‘ میں بھی ان میں شامل تھا‘ میں اس ٹیم کا نالائق اور جونیئر رکن تھا اور یہ لوگ مجھے ترس کھا کر ساتھ لائے تھے۔ 

ڈیلی پاکستان نے اس زمانے میں اسلام آباد سے اپنی اشاعت شروع کی ‘ ہم سب کو لاہور سے اسلام آباد کی طرف ہانک دیا گیا‘ ہمارا دفتر میلوڈی میں تھا اور رہائش میریٹ کے پیچھے گلشن جناح میں‘ یہ 1992 تھا‘ میاں نواز شریف کی حکومت تھی‘ اکبر علی بھٹی حکومتی ایم این اے تھے‘ انھیں گلشن جناح میں تین فلیٹس الاٹ ہوئے تھے‘ ایک میں یہ خود رہتے تھے اور دو ہمارے قبضے میں تھے۔

ہم پندرہ بیس لڑکے آڑھے ترچھے ہو کر ان فلیٹس میں سو جاتے تھے اور پیدل دفتر جاتے تھے‘ اس زمانے کا اسلام آباد آج سے مکمل مختلف تھا یہاں روز بارش ہوتی تھی‘ ہر طرف جنگل تھا‘ ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے برابر تھی اور رات آٹھ بجے کے بعد شہر میں سور پھرتے تھے اور سناٹے کا راج ہوتا تھا۔ 

سرکاری دفتروں اور ایمبیسیوں کے گیٹ کھلے ہوتے تھے اور ہم منہ اٹھاکر ان میں داخل ہو جاتے تھے‘ میں اس دور میں ویزہ لینے کے لیے پولینڈ ایمبیسی چلا گیا‘ آپ یقین کریں میں نے باہر موٹر سائیکل کھڑی کی اورپاسپورٹ اٹھا کر سفیر کے کمرے میں داخل ہو گیا‘ سفیر نے خود اپنے ہاتھ سے میرا فارم بھرا‘ مجھ سے ویزہ فیس لی اور مجھے بغیر کسی کاغذ کے ویزہ لگا دیا۔ 

اس نے صرف میرا صحافتی کارڈ دیکھا تھا اور فون کر کے میرے دفتر سے تصدیق کی تھی‘ بہرحال قصہ مزید مختصر ہم رہائش گاہ اور دفتر شیئر کرنے کی وجہ سے مسلسل اکبر علی بھٹی کو دیکھتے رہتے تھے‘ انھیں اردو نہیں آتی تھی‘ وہ پنجابی میں بات کرتے تھے اور لہجے میں بدتمیزی ہوتی تھی‘ اوئے کہہ کر مخاطب ہوتے تھے‘ وہ سیاسی جوڑ توڑ کا زمانہ تھا۔ 

صدر غلام اسحاق خان نے میاں نواز شریف کی حکومت توڑ دی جس کے بعد اکبر علی بھٹی پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے‘ عباس اطہر نے ڈیلی پاکستان چھوڑدیا‘ ان کے ساتھ ان کی ٹیم بھی چلی گئی لیکن میں اخبار میں ٹک گیا‘ نئے ایڈیٹر اظہر سہیل مرحوم تھے‘ وہ آصف علی زرداری اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے دوست تھے۔ 

بھٹی صاحب نے انھیں اس چکر میں ایڈیٹر بنا دیا‘ اظہر سہیل کو سینئر لوگوں پر جونیئر بٹھانے کا شوق تھا چناں چہ انھوں نے مجھے شفٹ انچارج بنا دیا‘ میں جونیئر تھا اور باقی لوگ سینئر تھے‘ وہ میری ’’افسری‘‘ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تھے بعدازاں ان میں سے آدھے نوکری چھوڑ کر چلے گئے اور باقی روز آتے تھے‘ مجھے سر کہہ کر تنگ کرتے تھے‘قہقہہ لگاتے تھے اور چلے جاتے تھے چناں چہ سارا ورک لوڈ مجھ پر آ گیا‘ اس کے مجھے دو فائدے ہوئے‘ ایک مجھے شوگر ہو گئی اور دوسرا میں کام سیکھ گیا‘ میں اعتراف کرتا ہوں میں آج بھی ان چار برسوں کی کمائی کھا رہا ہوں۔

میں اسٹوری کی طرف واپس آتا ہوں‘ ایک شام میں خبروں کے ڈھیر میں گم تھا اور اچانک میرے کانوں میں اکبر علی بھٹی کی آواز گونجی اوئے انچارج صاحب اوپر دیکھو‘ میں گھبرا کر کھڑا ہو گیا‘ اکبر علی بھٹی کے گلے میں دائمی سوزش تھی‘ وہ ہر دوچار منٹ بعد کھنگار کر گلہ صاف کرتے تھے جس کے بعد وہ اگلے کھنگار تک پان کھانے والوں کی طرح جبڑے ہلاتے رہتے تھے‘ وہ اس وقت بھی جبڑے ہلا رہے تھے۔ 

میں نے ان سے پوچھا ’’جی سر‘‘ ان کے ساتھ گندمی رنگت کے ایک بھاری جسم والے صاحب کھڑے تھے‘ بھٹی صاحب نے ان کی طرف اشارہ کیا اور حکم دیا ’’یہ پروفیسر میرے دوست ہیں‘ یہ آج سے آپ کے ساتھ کام کریں گے‘ انھیں کوئی تکلیف نہیں ہونی چاہیے‘‘ بھٹی صاحب یہ حکم دے کر دفتر سے چلے گئے جب کہ وہ صاحب کھڑے ہو کر مجھے دیکھ رہے تھے اور میں انھیں‘ میں نے انھیں بٹھایا‘ چائے آرڈر کی اور ان سے عرض کیا‘ کاپی کاوقت ہو گیا ہے‘ آپ اگر اجازت دیں تو میں فارغ ہو کر آپ سے بات کر لوں۔

پروفیسر صاحب نے ہاں میں سر ہلا کر اجازت دے دی‘ میرے پاس اس وقت پندرہ بیس لوگوں کی ٹیم تھی لیکن عملاً میں اکیلا تھے‘ وہ لوگ کام نہیں کرتے تھے‘ وہ صرف آتے تھے‘ چائے پیتے تھے‘ مجھے تنگ کرتے تھے اور وقت پورا ہونے کے بعد گھر چلے جاتے تھے لہٰذا سارا کام مجھ اکیلے کو کرنا پڑتا تھا اوپر سے بھٹی صاحب ایک پروفیسر بھی میرے متھے مار گئے تھے۔

آپ میری صورتحال کا اندازہ کر سکتے ہیں‘ بہرحال قصہ مختصر میں کاپی سے فارغ ہو کر پروفیسر صاحب کے ساتھ بیٹھ گیا‘ تعارف کے بعد پتا چلا ان کا نام پروفیسر غنی جاوید ہے‘ چکوال کے کسی کالج میں انگریزی پڑھاتے تھے‘ جوانی میں آسٹرولوجی کا شوق ہوگیا اور اس فن میں تیس سال لگا دیے‘ بلا کے انگریزی دان اور بلا کے آسٹرالوجر ہیں‘ چکوال کے قریب بھون کے رہنے والے ہیں‘ ان کی شہرت کسی نہ کسی طرح اسلام آباد پہنچ گئی اور یہ سیاستدانوں میں اٹھنے بیٹھنے لگے۔ 

یہ لوگ انھیں بھون سے بلا لیتے تھے‘ سارا سارا دن اپنے مقدر کا حساب نکلواتے رہتے تھے اور شام کو بس کے اڈے پر چھوڑ آتے تھے‘ یہ بے چارے خالی ہاتھ بھون سے آتے تھے اور خالی ہاتھ واپس چلے جاتے تھے‘یہ اس خواری کے دوران کالج سے ریٹائر ہو گئے اور اب اکبر علی بھٹی کے ذاتی جوتشی ہیں‘ بھٹی صاحب نے اخبار میں ان کا روزانہ کا زائچہ شروع کرا دیا لیکن اس کا معاوضہ بہت کم تھا۔ 

پروفیسر صاحب کا اس میں گزارہ نہیں ہوتا تھا‘ انھوں نے بھٹی صاحب سے درخواست کی اور بھٹی صاحب نے انھیں زائچے کیساتھ ڈیسک پر بھی نوکری دے دی جس کے بعد پروفیسر صاحب کے تین کام ہو گئے‘ یہ ڈیسک پر کام کرینگے‘ روزانہ کا زائچہ بنائینگے اور شام کے بعد اکبر علی بھٹی اور ان کے سیاستدان دوستوں کو اچھے دنوں کی امید دکھائینگے۔ 

ان کی کوئی مستقل رہائش بھی نہیں تھی‘ یہ کبھی ایک ایم این اے کے کمرے میں سو تے تھے اور کبھی دوسرے کے بیڈروم میں‘ سیاستدان انھیں ایک دوسرے کی طرف پھینکتے رہتے تھے‘ میں بہرحال یہ سب کچھ سن کر پریشان ہو گیا‘ کیوں؟ کیونکہ اول میرے پاس انھیں بٹھانے کے لیے جگہ نہیں تھی اور دوم مجھے کام کرنیوالا بندہ چاہیے تھا‘ فارغ ماہرین کی پوری فوج میرے پاس پہلے سے موجود تھی‘ اوپر سے یہ بھی نازل ہو گئے لیکن میرے پاس ظاہر ہے کوئی دوسرا آپشن نہیں تھا چنانچہ میں نے انھیں مصنوعی گرم جوشی سے ویل کم کہہ دیا اور یہ پروفیسر غنی جاوید کے ساتھ میرا پہلا تعارف تھا اور یہ سن تھا 1993۔

پروفیسر صاحب نے اگلے دن ڈیسک پر آنا شروع کر دیا‘ زندگی میں انھوں نے کبھی اخبار میں کام نہیں کیا تھا‘ان کی انگریزی اور اردو دونوں بہت اچھی تھیں لیکن یہ اخباری زبان نہیں جانتے تھے‘ میں نے انھیں ترجمے پر لگا دیا‘ صبح ان کے سامنے انگریزی رسالوں اور خبروں کا ڈھیر لگا کر انھیں ترجمے کا کام سونپ دیتا تھا لیکن پروفیسر صاحب کا کمال تھا ہم جب تک پاکستان اخبار میں رہے انھوں نے کبھی اپنا کام مکمل نہیں کیا۔

یہ بے چارے کر بھی لیتے لیکن جوان بیوہ کی طرح کوئی انھیں سکون سے بیٹھنے نہیں دیتا تھا‘ کبھی انھیں بھٹی صاحب طلب کر لیتے تھے اور کبھی ان کا کوئی دوست اپنے معاشقے کے بارے میں اصلاح کے لیے ان کے پاس آ جاتا تھا‘ لوگ انھیں رات رات بھر جگائے رکھتے تھے۔ 

صبح ان کی حالت خراب ہوتی تھی‘ دوسرا یہ ساٹھ باسٹھ سال کے بزرگ تھے‘ ان کی مصروفیات ان کی عمر سے زیادہ تھیں اور تیسرا یہ کام ان کا پیشن نہیں تھا مجبوری تھی‘ وہ صرف تین ہزار روپے تنخواہ کے لیے دفتر آتے تھے‘ مجھے بعدازاں پتا چلا یہ تین ہزار ان کے خاندان کا کل گزارہ تھا‘ وہ یہ رقم گھر بھجوا دیتے تھے اور خود اکبر علی بھٹی جیسے لوگوں کے رحم و کرم پر رہتے تھے‘ لوگ ان سے روز فائدہ اٹھاتے تھے‘ یہ انھیں لے کر کسی نہ کسی بیوروکریٹ یا وزیر کے پاس چلے جاتے تھے‘ سارا دن ان سے زائچہ بنواتے تھے اور شام کے وقت انھیں بھوکا پیاسا دفتر چھوڑ جاتے تھے اور یہ بے چارے ہمارا بچہ ہوا کھانا کھاتے تھے۔

انھیں لے جانے والے بیوروکریٹس اور وزیروں سے کروڑوں روپے کے فائدے لے لیتے تھے جب کہ پروفیسر صاحب خالی ہاتھ اور خالی جیب رہ جاتے تھے‘ مجھے بہت جلد صورت حال کا اندازہ ہو گیا‘ اس دوران پروفیسر صاحب میرے گھر بھی تشریف لائے اور میرے بیٹے اور میری بیوی کے سر پر ہاتھ رکھ کر ان کے بزرگ بن گئے چناں چہ میری بیوی روز میرے ساتھ ان کا کھانا بھی پیک کر دیتی تھی‘ ہم اکثر اکٹھے کھانا کھاتے تھے اور جس دن پروفیسرصاحب کو ان کا کوئی مہربان لے جاتا تھا تو میں ان کا کھانا دفتر چھوڑ جاتا تھا اور پروفیسر صاحب واپسی پر وہی کھانا کھا کر گھر جاتے تھے۔  (جاری ہے)

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ڈیلی پاکستان پروفیسر صاحب بھٹی صاحب نے اسلام آباد ضیاء شاہد رہتے تھے نے انھیں انھوں نے میرے پاس شاہ صاحب کرتے تھے آتے تھے چناں چہ تھا اور کے ساتھ تھے اور تھی اور بھی ان اور یہ کی طرف ہو گئے کے بعد کے لیے اور دو ہو گیا

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اگر آپ ذہین ہیں تو اس لاکر کا درست کوڈ بتایئے؟
  • پیپلز پارٹی کی قیادت پر انگلی اٹھانے سے پہلے رانا ثنا اللہ کو ماڈل ٹاؤن کے خون کا حساب دینا چاہیئے، سعدیہ جاوید
  • اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ڈپٹی سیکرٹری وزارتِ خزانہ عائشہ جاوید کو بین الاقوامی اعزاز پر مبارکباد
  • اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ڈپٹی سیکرٹری وزارتِ خزانہ عائشہ جاوید کو عالمی اعزاز پر مبارکباد
  • ریاست مخالف ٹوئٹ کیس: پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید اور فلک جاوید کے جیل ٹرائل کےلیے دائر درخواست خارج
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • فلک جاوید اور صنم جاوید کےخلاف ٹویٹ کیس کی سماعت ملتوی
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا