اردو یونیورسٹی؛ کورم پورا نا ہونے پر سینیٹ کا اجلاس نا ہو سکا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, September 2025 GMT
کراچی:
وفاقی اردو یونیورسٹی کی سینیٹ کا ڈیڑھ سال کے عرصے میں منعقدہ ہونے والا پہلا اجلاس کورم پورا نہ ہونے پر ختم ہوگیا اور ایجنڈے میں شامل کسی بھی آئٹم پر بحث نہیں ہو سکی۔
اجلاس میں صرف 5 اراکین شریک ہوئے جبکہ سینیٹ کی اراکین کی تعداد اس وقت 14 ہے، سینیٹ کل 17 اراکین پر مشتمل ہوتی ہے۔
شریک ہونے والے اراکین میں ڈپٹی چیئر سینیٹ ڈاکٹر جمیل احمد، وائس چانسلر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری، ڈاکٹر سروش لودھی، ڈاکٹر تنویر خالد اور ڈاکٹر کمال حیدر شامل تھے جو اجلاس کا کورم پورا نہ ہونے کے سبب واپس چلے گئے۔
وفاقی سیکریٹری تعلیم یا وزارت تعلیم اور اعلیٰ تعلیمی کمیشن کا کوئی نمائندہ تک اجلاس میں شریک نہیں ہوا، باقی اراکین نے بھی سینیٹ کے اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔
اکثر اراکین کا خیال تھا کہ وائس چانسلر کی تنخواہ سے متعلق پیدا ہونے والا ابہام پہلے دور کیا جائے، اس کی تحقیقات کی جائیں پھر سینیٹ کا اجلاس بلایا جائے۔
اس حوالے سے انجمن ترقی اردو کے صدر واجد جواد نے بھی ڈپٹی چیئر سینیٹ کو ایک خط تحریر کیا تھا جس میں یونیورسٹی کے معاملات پر ایچ ای سی کی جاری انکوائری کو بنیاد بناتے ہوئے اجلاس ملتوی کرنے کی گزارش کی گئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔