پانی کی لائن ٹوٹنے سے یونیورسٹی روڈ دریا کا منظر پیش کرنے لگی
اشاعت کی تاریخ: 17th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر)کراچی کی مصروف ترین شاہراہ یونیورسٹی روڈ پر پانی کی لائن ٹوٹنے اور نالہ اوور فلو ہونے کے باعث سڑک پر پانی جمع ہوگیا ہے جس سے ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہونے لگی۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ شب سے ہی یونیورسٹی روڈ پر پانی جمع ہونا شروع ہوگیا تھا جس کے سبب اطراف کی گلیوں میں ٹریفک کا شدید دباؤ دیکھا گیا۔ وفاقی اردو یونیورسٹی کے سامنے پانی کی لائن متاثر ہوئی ہے جس کے باعث حسن اسکوائر سے نیپا جانے والی سڑک پر ٹریفک کا شدید دباؤ ہے جبکہ نیپا سے حسن اسکوائر جانے والی سڑک پر بھی ٹریفک کی روانی متاثر ہو ئی ہے پانی مسلسل جمع ہونے سے یونیورسٹی روڈ سے متصل نشیبی علاقوں میں بھی پانی داخل ہوگیاہے جس سے علاقہ مکین سخت پریشانی کا شکار ہیں۔یونیورسٹی روڈ پر پانی کی لائن متاثر ہونے کے باوجود واٹر کارپوریشن کا عملہ تاحال غائب ہے جبکہ لائن متاثر ہونے سے گلشن اقبال سمیت اطراف کے علاقوں میں پانی کی قلت کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: یونیورسٹی روڈ پانی کی لائن پر پانی
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :