پاکستان آبادی کے اعتبار سے موسمی تغیراتی تبدیلیوں سےمتاثر ہونے والاسب بڑا ملک ہے:رضوان سعید شیخ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, September 2025 GMT
واشنگٹن (نیوز ڈیسک)امریکہ میں پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان کا شمار ماحولیاتی آلودگی میں کم ترین حصہ ڈالنے والے ممالک میں ہوتا ہے تاہم آبادی کے اعتبار سے پاکستان موسمی تغیراتی تبدیلیوں کا شکار ہونے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ چند برسوں میں موسمیاتی تغیراتی عمل کے باعث پیش آنے والی قدرتی آفات اور ان کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات نے نہ صرف پاکستان کے ترقیاتی عمل کی رفتار بلکہ ترقیاتی پھیلاؤ کی شرح کو بھی متاثر کیا ہے۔
اسلامک سرکل آف نارتھ امریکہ کی فلاحی تنظیم ہیلپنگ ہینڈ کی جانب سے منعقد کردہ ایونٹ سے خطاب کرتے ہوئے سفیر پاکستان نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی کا چیلنج اور اسکے مہلک اثرات کسی ایک ملک یا علاقے تک محدود نہیں بلکہ یہ عمل پوری دنیا کے لئے ایک سنگین چیلنج بن کر ابھرا ہے ۔ انہوں نے عالمی سطح پر پیش آنے والے واقعات اور دنیا بھر میں ہونے والی تباہ کاریوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی کا چیلنج کسی ایک ملک یا علاقے تک نہیں بلکہ یہ پوری دنیا کے لئے مشترکہ چیلنج ہے اور عالمی برادری کو مل کر اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کوششیں کرنا ہوں گی۔
دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں ملک کے صف اول کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے سفیر پاکستان نے کہا کہ دہشت گردی کے محاذ پر صف اول کا کردار ادا کرنے والا ملک آج موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف نبرد آزما ہے۔
انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات کے سے نمٹنے اور متاثرہ خاندانوں کو ریلیف کی فراہمی کے ضمن میں حکومت پاکستان ہر ممکنہ اقدام اٹھا رہی ہے۔ تاہم یہ انسانیت کا معاملہ ہے جس میں ہر محب وطن اور مخیر شخص کو بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔
ہیلپنگ ہینڈ کی جانب سے سیلاب متاثرین کے لئے لگ بھگ ڈیڑھ ارب روپے کی امداد کو سراہتے ہوئے سفیر پاکستان نے امید ظاہر کی کہ تنظیم اپنے مضبوط اور مربوط نیٹ ورک کو برؤے کار لاتے ہوئے اپنے عطیات کو حقداروں تک پہنچانے کو یقینی بنائے گی۔
سفیر پاکستان نے حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ تاحال تمام توجہ امدادی اور ریلیف سرگرمیوں پر مرکوز ہے ۔ اس کوشش میں امریکی پاکستانی کمیونٹی کے بھرپور تعاون کی اپیل ہے۔ ریلیف کے بعد آباد کاری اور تعمیر نو کے عمل میں بھی کمیونٹی کے تعاون کے خواہاں رہیں گے۔
رضوان سعید شیخ نے کہا کہ پوری قوم نے معرکہ حق کے دوران جس جذبہ حب الوطنی اور پاکستانیت کا مظاہرہ کیا تھا آج بھر اسی جذبے کی ضرورت آن پہنچی ہے۔
پاکستان اور بھارت کو درپیش موسمیاتی تبدیلی کے مشترکہ چیلنج پر بات کرتے ہوئے سفیر پاکستان نے کہا کہ حالیہ تباہ کاریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں اس بات کا ادارک کرنا ہوگا کہ ہمارے مشترکہ معاملات اور چیلنجز مخاصمت سے نہیں بلکہ بات چیت اور مشترکہ کوششوں سے حل ہو سکیں گے۔
شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ہیلپنگ ہینڈ کے صدر محسن انصاری نے تنظیم کی فلاحی سرگرمیوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ ہیلپنگ ہینڈ اس وقت دنیا بھر کے اسی ممالک میں سرگرم عمل ہے۔ پاکستان کے حوالے سے اس کا سالانہ بجٹ تقریبا بارہ ملین ہے جو کہ اس سال سترہ ملین ڈالر تک ہوگا۔ انہوں نے ملک کے مختلف علاقوں میں ہیلپنگ ہینڈ کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم انسانیت کے جذبے سے سرشار ہوکر ملک کے کونے کونے میں اپنا دائرہ کار پھیلانے کے حوالے سے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد دکھی انسانیت کی مدد کرنا اور اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل کرنا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ہوئے سفیر پاکستان نے ہیلپنگ ہینڈ کرتے ہوئے نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
چین کی معروف الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکل ساز کمپنی ’بی وائی ڈی ‘ نے کہا ہے کہ سندھ کے علاقے غارو میں قائم کیا جانے والا اس کا 150 ملین ڈالر مالیت کا اسمبلنگ پلانٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
جبکہ کمپنی پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے کام تیز کر رہی ہے۔
کمپنی کے مطابق پلانٹ میں تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جبکہ اس وقت جدید مشینری کی تنصیب، کمیشننگ اور دیگر تکنیکی مراحل جاری ہیں تاکہ عالمی معیار کے مطابق پیداوار کا آغاز کیا جا سکے۔
پلانٹ کی سالانہ پیداواری صلاحیت 25 ہزار گاڑیاں ہوگیبی وائی ڈی پاکستان، میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی ) کے وائس پریزیڈنٹ سیلز اینڈ اسٹریٹجی، دانش خالق نے بتایا کہ تقریباً 2 سال سے بھی کم عرصے میں تیار ہونے والا یہ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے تیز ترین آٹو مینوفیکچرنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی، شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ آج مارکیٹ میں آئے گی
انہوں نے کہا کہ پلانٹ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سالانہ تقریباً 25 ہزار نیو انرجی وہیکلز اسمبل کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جس سے ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔
پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی جلد متعارف کرانے کا ہدفدانش خالق کے مطابق کمپنی کی اولین ترجیح پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد صارفین تک پہنچانا ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ باقاعدہ پیداوار شروع کرنے سے قبل مشینری کی جانچ، پیداواری آزمائش اور معیار کی تصدیق کے متعدد مراحل مکمل کیے جائیں گے تاکہ ہر گاڑی کمپنی کے عالمی معیار پر پوری اترے۔
2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی سب سے بڑی کھیپ پاکستان پہنچ گئیاس پیش رفت سے قبل بی وائی ڈی پاکستان نے گزشتہ ہفتے بحری جہاز کے ذریعے 2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ درآمد کی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس درآمد کا مقصد صارفین کو بروقت گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنانا اور ملک بھر میں موجود ڈیلر نیٹ ورک میں مطلوبہ تعداد میں گاڑیاں دستیاب رکھنا ہے۔
ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں اضافہبی وائی ڈی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران نیو انرجی وہیکلز میں صارفین کی دلچسپی مسلسل بڑھی ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔
مزید پڑھیں:چین کی سب سے بڑی کارساز کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے کے لیے پُرعزم
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بی وائی ڈی گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات روایتی پیٹرول یا ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں 75 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں، جبکہ حفاظت، کارکردگی اور قابلِ اعتماد معیار بھی برقرار رہتا ہے۔
چارجنگ انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری جاریدانش خالق نے بتایا کہ بی وائی ڈی پاکستان نے ہبکو گرین پرائیویٹ لمیٹڈ (ایچ جی ایل) کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ملک بھر میں نیو انرجی وہیکلز کے لیے چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع کا کام بھی جاری رکھا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب تک کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,300 کلومیٹر طویل روٹ پر 19 پبلک ڈی سی فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں مزید شہروں، اہم شاہراہوں اور دوسرے درجے کے شہری مراکز تک اس نیٹ ورک کو توسیع دی جائے گی۔
بی وائی ڈی نے 2024 میں مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے ساتھ اشتراک کے ذریعے پاکستان کی مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں باضابطہ طور پر قدم رکھا تھا۔
گزشتہ سال کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں اسمبل ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی جولائی یا اگست 2026 تک متعارف کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 2030 تک فروخت ہونے والی 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی
ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکلز کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔
حکومت کی جانب سے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں بہتری ایسے عوامل ہیں جو اس شعبے میں سرمایہ کاری اور صارفین کی دلچسپی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔
بی وائی ڈی کا غارو پلانٹ بھی اسی بدلتے ہوئے رجحان کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آٹو انڈسٹری، روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الیکٹر گاڑیوں الیکٹرک گاڑیاں ایندھن بی وائی ڈی پیداواری ٹیکنالوجی نیو انرجی وہیکلز