وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ اگر اس مرتبہ بھی انہیں دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو 10 جون کو ملک بھر سے پارلیمنٹیرین اسلام آباد پہنچ کر قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے۔

اڈیالہ روڈ سے روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو میں سہیل آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت بانی پی ٹی آئی کی جماعت کی حکومت ہے اور صوبے کے عوام نے بانی پی ٹی آئی کو ووٹ دیا ہے، اس لیے عوام کی خواہش ہے کہ صوبائی بجٹ ان کی ہدایات اور ترجیحات کے مطابق مرتب کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بجٹ کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کر کے ان کی منظوری حاصل کی جائے۔

سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ وہ کل اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک درخواست دائر کریں گے اور امید ہے کہ اس مرتبہ ملاقات کی اجازت مل جائے گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ آج بھی بانی پی ٹی آئی کے اہل خانہ کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کوئی جرم نہیں کیا بلکہ انہیں ناحق قید رکھا گیا ہے۔ ان کے بقول پنجاب حکومت اور جیل انتظامیہ کی غفلت کے باعث بانی پی ٹی آئی کی آنکھ میں مسئلہ پیدا ہوا جبکہ عوام میں اس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ ملاقاتوں پر پابندی کیوں عائد کی جا رہی۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے بانی پی ٹی آئی کو مینڈیٹ دیا ہے اور صرف وہی وزیراعلیٰ کو تبدیل کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ان کی ملاقات بیرسٹر گوہر کی درخواست پر ہوئی تھی، علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان پاکستان کا برادر اسلامی ملک ہے اور کسی کی خوشنودی کے لیے دونوں ممالک کے تعلقات خراب نہیں ہونے چاہئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی ہمیشہ یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں اور پاکستان کو خطے میں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیے، خیبرپختونخوا کے آئندہ بجٹ میں سماجی بہبود، تعلیم اور صحت کے شعبوں کو ترجیح دی گئی ہے۔

کرپشن کے الزامات کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کے دفتر کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں اور اگر کسی کے پاس کرپشن کے ثبوت ہیں تو وہ سامنے لائے۔

عمران خان کے نئے پیغام تک میں ہی وزیراعلیٰ رہوں گا، سہیل آفریدی

قبل ازیں علیمہ خان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان کو مسلسل قیدِ تنہائی میں رکھا جا رہا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کا علاج ان کے اہلِ خانہ کی موجودگی میں ذاتی معالجین کی نگرانی میں شفاءانٹرنیشنل اسپتال میں کرایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا کوئی غیر آئینی یا غیر قانونی مطالبہ نہیں، عمران خان کو مناسب طبی سہولیات فراہم کرنا ان کا بنیادی حق ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ عمران خان کے اہلِ خانہ اور پارٹی قیادت کو ان سے ملاقات کی اجازت نہ دینا انتہائی تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب اہلِ خانہ، پارٹی قیادت اور ذاتی معالجین تک رسائی روکی جاتی ہے تو اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ عمران خان کے ساتھ کچھ کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگر عمران خان فیصلہ کریں کہ فلاں شخص وزیر اعلیٰ نہیں تو وہ وزیر اعلیٰ نہیں رہے گا۔ عمران خان ہی پی ٹی آئی ہیں، خیبرپختونخوا میں حکومت عمران خان کی ہے، اسے ان کے علاوہ کوئی ختم نہیں کر سکتا۔

انہوں نے واضح کیا کہ اڈیالہ سے بیٹھ کر عمران خان نے مجھے وزیراعلیٰ منتخب کیا اور کوئی بھی نئی ہدایت یا نام آنے تک میں ہی وزیراعلیٰ کے عہدے پر رہوں گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی کہ عمران خان سہیل آفریدی نے کہا کہ انہوں نے کیا کہ خان کے

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • وزیراعظم کا لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دینے، کمانڈر نیشنل سٹرٹیجک کمانڈ مقرر کرنے کا اعلان
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن