فخر زمان نے افغانستان کے خلاف میچ میں بڑا سنگِ میل عبور کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, September 2025 GMT
پاکستان کے بائیں ہاتھ کے اوپنر فخر زمان نے منگل کو ایک اور سنگِ میل عبور کرلیا جب وہ افغانستان کے خلاف ٹی ٹوئنٹی ٹرائی سیریز کے چوتھے میچ میں اپنی 100 ویں ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل (T20I) میچ میں میدان میں اترے۔
یہ بھی پڑھیں:سہ ملکی سیریز: افغانستان نے پاکستان کو 18 رنز سے شکست دے دی
فخر زمان نے 2017 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ڈیبیو کیا تھا اور اب وہ سو یا اس سے زیادہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیلنے والے پاکستان کے چھٹے کھلاڑی بن گئے ہیں۔ اس فہرست میں بابر اعظم، محمد حفیظ اور شعیب ملک جیسے بڑے نام شامل ہیں۔
پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ میچز کھیلنے کا اعزاز بابر اعظم کے پاس ہے، جنہوں نے 128 میچز کھیلے ہیں۔ ان کے بعد شعیب ملک 125 اور محمد حفیظ 119 میچز کے ساتھ موجود ہیں، جبکہ شاداب خان 112، محمد رضوان 106 اور اب فخر زمان 100 میچز کے ساتھ اس فہرست میں شامل ہو گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:سہ ملکی سیریز: افغانستان نے پاکستان کو 18 رنز سے شکست دے دی
میچ سے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے جاری ویڈیو میں دیکھا گیا کہ ساتھی کھلاڑیوں نے فخر زمان کو اس اعزاز پر مبارک باد دی۔ فاسٹ بولر حارث رؤف نے انہیں گلے لگایا جبکہ آل راؤنڈر خوشدل شاہ نے پیٹھ تھپتھپا کر داد دی۔
اب تک کھیلے گئے 99 میچز میں فخر زمان نے 1975 رنز اسکور کیے ہیں، جن میں 11 نصف سنچریاں شامل ہیں اور ان کا اوسط 22.
افغانستان کے خلاف جاری میچ میں پاکستان کو 170 رنز کا ہدف درپیش ہے۔ خبر لکھنے کے وقت فخر زمان 7 گیندوں پر 12 رنز بنا کر کریز پر موجود تھے جبکہ پاکستان نے چار اوورز میں دو وکٹوں کے نقصان پر 31 رنز بنائے تھے اور اسے مزید 138 رنز درکار تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان پاکستان سہ ملکی سیریز فخر زمان کرکٹ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغانستان پاکستان سہ ملکی سیریز کرکٹ کے خلاف میچ میں
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی