کراچی (نیوز ڈیسک) یومِ دفاع کے موقع پر مزارِ قائد پر گارڈز کی تبدیلی کی پُروقار تقریب منعقد ہوئی۔ اس موقع پر پاکستان ایئر فورس اکیڈمی اصغر خان کے دستے نے مزارِ قائد پر گارڈز کے فرائض سنبھالے۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی ایئر وائس مارشل شہریار خان تھے۔ انہوں نے مزارِ قائد پر پھول چڑھائے، مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات درج کیے اور پی اے ایف کے دستے کا معائنہ بھی کیا۔

خطاب کرتے ہوئے ایئر وائس مارشل شہریار خان نے کہا کہ پاک فضائیہ ہمیشہ عوام کے اعتماد پر پوری اتری ہے اور ہر محاذ پر تیار کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن کو ہمیشہ شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور آئندہ بھی کسی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ آپریشن *بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص* نے 6 ستمبر کی یاد تازہ کر دی۔

انہوں نے واضح کیا کہ گارڈز کی تبدیلی محض ایک رسم نہیں بلکہ قائداعظم کے اتحاد اور قربانی کے پیغام کی یاد دہانی ہے۔ ان کے مطابق قدرتی آفات اور ریسکیو آپریشنز میں بھی پاک فضائیہ ہمیشہ سب سے آگے رہی ہے۔ شہریار خان نے کہا کہ ایئر چیف مارشل بابر سدھو کی قیادت میں ایئر فورس جدید تقاضوں کے مطابق مزید مضبوط ہوئی ہے۔

ایئر وائس مارشل نے کہا کہ پوری قوم کو افواجِ پاکستان کی قربانیوں اور کامیابیوں پر فخر ہے، اور پاکستان کی فضائی حدود کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے۔

کمانڈنگ آفیسر نے اپنے خطاب میں شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا کہ جن والدین نے اپنے بیٹوں کو وطن پر قربان کیا، وہ حقیقی محسن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وطنِ عزیز کے خلاف اٹھنے والا ہر قدم ناکام بنایا جائے گا۔

یاد رہے کہ آج ملک بھر میں یومِ شہداء و دفاع بھرپور جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے۔ دن کا آغاز وفاقی دارالحکومت میں 31 توپوں جبکہ صوبائی دارالحکومتوں میں 21، 21 توپوں کی سلامی سے ہوا۔ نمازِ فجر کے بعد مساجد میں ملک کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں بھی کی گئیں۔

یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ رواں برس مئی میں ہونے والی جنگ میں پاکستان کی مسلح افواج نے بھارت کے کئی جنگی طیارے، جن میں جدید رافیل بھی شامل تھے، تباہ کیے اور متعدد ایئر بیسز کو نشانہ بنایا۔

Post Views: 2.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ایئر وائس مارشل شہریار خان نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا

وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت