دورہ چین میں پاکستان کے کتنے معاہدے ہوئے اور کیا اہم یقین دہانیاں کروائی گئیں؟
اشاعت کی تاریخ: 6th, September 2025 GMT
وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ چین کے ساتھ حالیہ دورے کے دوران 8 اعشاریہ 5 ارب ڈالرز کے معاہدے ہوئے۔
ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان میں سے ڈیڑھ ارب ڈالر کے حقیقی معاہدے ہوئے، اس کو ہم عملی جامہ پہنانے کی کوشش کریں گے۔ ان میں سے 600 ملین ڈالرز زراعت ککے شعبے میں ہیں اور 313 ملین ڈالرز میڈیکل کے شعبے میں ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ چین سے پاک چین تعلقات نئی بلندیوں پر پہنچ گئے، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ
بلال اظہر کیانی نے کہا کہ بقیہ 7 ارب ڈالرز کے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے ہیں، اب آگے ان ایم او یوز کو بھی عملی جامہ پہنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایم او یوز اور معاہدے مختلف شعبوں میں ہوئے ہیں جن میں سولر، الیکٹرک گاڑیوں، صحت، زراعت، پیٹرو کیمیکلز وغیرہ شامل ہیں۔
وزیر مملکت نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے یقین دلایا ہے کہ دونوں ممالک کے کاروباری کمپنیوں کو مکمل مدد فراہم کیا جائے گا تاکہ ان معاہدوں کا اطلاق ممکن بنایا جاسکے، ان معاہدوں کو عملی صورت میں لے آنا ہمارے لیے ایک چیلنج ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان چین سرمایہ کاری کانفرنس، اربوں ڈالرز کے کون سے 21 معاہدے ہوئے؟
بلال اظہر کیانی نے کہا کہ سی-پیک کے پہلے مرحلے پر زیادہ تر دونوں اطراف کی حکومتوں کے درمیان اشتراک تھا اور چین نے ہمیں توانائی اور انفراسٹرکچر میں بہتری کے لیے کلیدی مدد فراہم کی تاہم اب سی-پیک 2 میں کوشش ہوگی کہ دونوں ممالک کی کاروباری کمپنیوں کے درمیان تعاون کو بڑھایا جائے۔ پرائیوٹ سیکٹر کی قیادت میں ترقی کی طرف جائیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: معاہدے ہوئے نے کہا کہ
پڑھیں:
موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
لاہور میں رات گئے شروع ہونے والی موسلادھار بارش کے بعد اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی، جس کے باعث متعدد رہائشی علاقوں اور اہم شاہراہوں پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا جبکہ نشیبی علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہونے، ٹریفک جام اور سیوریج نظام مفلوج ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔شہر میں رات گئے شروع ہونے والی بارش وقفے وقفے سے جاری ہے، جس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ کینٹ، ڈیفنس اور والٹن سمیت متعدد علاقوں میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں جبکہ کئی مقامات پر گھروں میں بھی پانی داخل ہوگیا۔لاہور کینٹ میں موسلادھار بارش کے باعث سیوریج سسٹم جواب دے گیا، جس سے علی ویو گارڈنز، علی پارک، نادرا آباد اور دیگر علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا۔ مقامی افراد کے مطابق بیشتر علاقے ندی نالوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔دوسری جانب ڈیفنس فیز تھری کے اے، بی اور سی بلاکس میں بھی بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ والٹن روڈ اور کیولری گراؤنڈ میں سڑکیں مکمل طور پر زیر آب آگئیں۔ کیولری گراؤنڈ کی مرکزی شاہراہ بھی پانی میں ڈوب گئی، جس کے باعث آمدورفت شدید متاثر رہی۔بارش کے بعد مین ڈیفنس روڈ پر بھی پانی جمع ہونے سے سڑک دریا کا منظر پیش کرنے لگی جبکہ ڈیفنس انڈر پاس بھی پانی سے بھر گیا۔ شہر کے مختلف حصوں میں پانی کھڑا ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی، گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور شہریوں کو گھنٹوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مسلسل بارش کے باعث لاہور کی بیشتر شاہراہیں جل تھل ہوگئیں جبکہ روزمرہ زندگی بری طرح متاثر رہی۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے نکاسی آب کے مؤثر انتظامات اور فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج دن پر وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہے گا، مون سون کی بارشوں کے باعث لاہور میں حبس اور گرمی کی شدت میں کمی آگئی ہے۔لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 29 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔لاہور میں سب سے زیادہ بارش ایئرپورٹ پر 262 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مناواں میں 200، تاجپور میں 151، کاہنہ میں 142، شادی پورہ میں 129 اور مغل پورہ میں 127 اور اپر مال پر 111 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔جوہر ٹاؤن میں 80، چوک ناخدا میں 60، نشتر ٹاؤن میں 54، اقبال ٹاؤن میں 51، گلبرگ میں 49، ڈیفنس روڈ 45، سمن آباد میں 29، جیل روڈ اور پانی والا تالاب 26، لکشمی چوک اور فرخ آباد میں 24، سگیاں میں 21 اور گلشن راوی میں 17 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ایم ڈی واسا لاہور غفران احمد نکاسی آب آپریشن کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے سبب اندرون اور بیرون ملک جانے اور آنے والی پروازیں متاثر ہوگئیں۔لاہور سے کراچی، دبئی، جدہ، ابو ظہبی، استنبول جانے اور آنے والی 6 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ شدید بارش سے پروازوں کی آمد و رفت میں تاخیر ہوئی۔ایئرپورٹ حکام نے مسافروں کو اپنی پروازوں کے بارے میں معلومات لیکر آنے کی ہدایت کی ہے۔