پرامن بقائے باہمی پر کاربند ہیں مگر مسلسل بھارتی اشتعال انگیزیوں سے غافل نہیں، وزیراعظم شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 6th, September 2025 GMT
وزیرِاعظم محمد شہباز شریف نے یومِ دفاع اور شہدا کے دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان دنیا کے ساتھ امن اور تعمیری روابط کا خواہاں ہے لیکن بھارت کی مسلسل اشتعال انگیزیوں اور بدلتے ہوئے علاقائی حالات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
وزیرِاعظم نے شہدا اور مسلح افواج کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ 6 ستمبر ہماری قومی یادداشت میں بہادری، اتحاد اور استقامت کی علامت کے طور پر ہمیشہ زندہ رہے گا۔ انہوں نے 1965 کی جنگ کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی عوام کی مکمل حمایت سے افواجِ پاکستان نے دشمن کی جارحیت کو ناکام بنا کر ثابت کیا کہ قوم اپنی آزادی اور سالمیت کے تحفظ کے لیے ہر وقت تیار ہے۔
یہ بھی پڑھیے: 6 ستمبر 1965، وہ دن جب قوم آسمان بن گئی
انہوں نے حالیہ آپریشن بنیان مرصوص، معرکہ حق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاک فوج، بحریہ اور فضائیہ نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر کی تزویراتی قیادت میں اپنی بے مثال پیشہ ورانہ مہارت اور جنگی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا اور نئی تاریخ رقم کی۔
وزیرِاعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط اور جدید بنائے گا اور غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی اور پراکسی وار کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کرتا رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خاتمے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور یہ مشن مکمل ہونے تک پوری قوم ان کے ساتھ ہے۔
یہ بھی پڑھیے: 6 ستمبر یوم دفاع و شہدا : سیاسی اور عسکری قیادت کا خراج تحسین
وزیرِاعظم نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام کی جدوجہد کو طاقت کے ذریعے دبایا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ عام شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور انسانی امداد کا سلسلہ بلا تعطل جاری رکھا جائے۔
اپنے پیغام میں وزیرِاعظم نے کہا کہ معاشی استحکام مضبوط دفاع کے لیے ناگزیر ہے، اس لیے قوم کو ذاتی اختلافات سے بالاتر ہو کر اجتماعی ترقی، خود انحصاری اور پائیدار خوشحالی کے لیے متحد ہونا ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
6 ستمبر وزیراعظم شہباز شریف یوم دفاع.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: وزیراعظم شہباز شریف یوم دفاع ہوئے کہا کہ کرتے ہوئے کے لیے
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔