اسرائیل جتنے انسان مارے ، ہمیں کیا فرق پڑتا ہے
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
رواں برس مئی میں اسرائیلی وزیرِ خزانہ بیزلیل سموترخ نے بعد از جنگ غزہ میں سرمایہ کاری کے امکانات سے متعلق کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پوری پٹی کو تباہ کر کے لوگوں کو جنوب کے ایک چھوٹے سے علاقے تک محدود کر دیا جائے گا۔شرکا نے اس خبر کا تالیوں سے خیر مقدم کیا۔جولائی میں وزیرِ ثقافت ایمخائی ایلیاہو نے ایک ریڈیو انٹرویو میں بتایا کہ بفضلِ خدا ہم غزہ کو تیزی سے صاف کر رہے ہیں اور جلد ہی یہ علاقہ یہودی آبادکاری کے قابل ہو جائے گا۔
ملٹری انٹیلی جینس کے سربراہ میجر جنرل ہارون حلیوا گذشتہ برس اپریل میں ریٹائر ہوئے۔اسرائیلی چینل بارہ نے گذشتہ ماہ جنرل صاحب کی ایک آڈیو ریکارڈنگ سنوائی۔اس میں جنرل صاحب کہہ رہے ہیں کہ ’’ سات اکتوبر کو مرنے والے ہر اسرائیلی کے بدلے پچاس فلسطینیوں کا مرنا ضروری ہے۔انھیں سبق دینے کے لیے ہر چند برس بعد ایک نقبہ کی ضرورت ہے۔تاکہ ان کی آیندہ نسلوں کو بھی یاد رہے اور ہماری آیندہ نسلیں بھی ان سے محفوظ رہیں ‘‘۔
( نقبہ کا مطلب قیامتِ صغری ہے۔پہلا نقبہ انیس سو سینتالیس تا انچاس جاری رہا جس میں ساڑھے سات لاکھ فلسطینی گھروں سے نکالے گئے۔دوسرا نقبہ انیس سو سڑسٹھ کی جنگ کے بعد شروع ہوا۔اس میں ساڑھے تین لاکھ فلسطینی مقبوضہ مغربی کنارہ چھوڑنے پر مجبور ہوئے اور تیسرا نقبہ اس وقت جاری ہے جس میں اب تک مغربی کنارے کے پچاس ہزار فلسطینی اندرونی طور پر دربدر ہو چکے ہیں جب کہ غزہ کی پوری آبادی نسل کشی اور بے گھری کے درمیان معلق ہے )۔
برطانوی اخبار گارجین ، اسرائیلی نیوز ویب سائٹ پلس نائن سیون ٹو میگزین اور لوکل کال نے اسرائیلی فوج کی ایک کلاسیفائیڈ ڈیٹا فائل حاصل کر لی۔ اس فائل میں سات اکتوبر دو ہزار تئیس تا مئی دو ہزار پچیس ( انیس ماہ ) کا ڈیٹا موجود ہے۔اس ڈیٹا کے مطابق انیس ماہ میں حماس اور اسلامک جہاد سے تعلق رکھنے والے سینتالیس ہزار چھ سو تریپن جنگجوؤں میں سے محض آٹھ ہزار نو سو جنگجو مارے گئے یا ’’ شائد‘‘ مر گئے۔( ’’ شائد مر گئے ‘‘ کی کیٹگری میں پندرہ سو ستر نام ہیں )۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ اب تک غزہ میں جتنے بھی لوگ مرے ان میں سے صرف سترہ فیصد جنگجو اور تراسی فیصد عام شہری ہیں۔یعنی روانڈا ، بوسنیائی شہر سربرے نیتزا اور یوکرین کے شہر ماریوپول میں قتلِ عام کے بعد کسی بھی مسلح بحران میں سب سے زیادہ سویلینز غزہ میں مرے ہیں اور مسلسل مر رہے ہیں۔
حماس کی وزارتِ صحت ان زخمیوں اور ہلاک شدگان کو گنتی ہے جن کی تصدیق ہو چکی ہے اور اسرائیلی فوج بھی ان اعداد و شمار کو درست سمجھتی ہے۔اگر موقر برطانوی طبی جریدے دی لانسٹ کی تحقیق پر اعتبار کر لیا جائے تو جتنے لوگ اب تک مصدقہ طور پر مرے ہیں ان کے علاوہ کم از کم چالیس فیصد وہ ہیں جو لاپتہ ہیں یا ان کی لاشیں ملبے سے نہیں نکالی جا سکیں یا پھر ان کے بمباری سے چیتھڑے اڑ گئے یا ان کی لاشیں راستوں میں پڑی پڑی گل سڑ گئیں ۔ان غیرمصدقہ لاپتہ لوگوں کو بھی اگر ہلاک شدگان میں شامل کر لیا جائے تو غزہ میں اب تک لاکھ سے زائد انسان مر چکے ہیں۔ پچھلے کم ازکم سو برس کی تمام جنگوں میں غزہ جتنے رقبے میں اتنی تعداد میں انسان کہیں اور نہیں مارے گئے۔
اسرائیلی فوجی ذرائع نے کلاسیفائیڈ ڈیٹا کے افشا ہونے کی تردید نہیں کی۔غیر جانبدار انسانی حقوق ذرائع ابتدا سے کہہ رہے ہیں کہ مرنے والوں میں اکثریت بیگناہوں کی ہے مگر اسرائیلی سیاست داں نسل کشی پر پردہ ڈالنے کے لیے ہمیشہ حماس اور اسلامک جہاد کے جنگجوؤں کی تعداد نہ صرف بڑھا چڑھا کے پیش کرتے رہے بلکہ ہر مرنے والے کو جنگجو یا ان کا ساتھی یا ہمدرد ڈکلئیر کرتے آئے ہیں۔
گذشتہ برس ستمبر میں نیتن یاہو نے کہا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج جدید جنگ کے تمام اخلاقی اصول برت رہی ہے اور ایک دہشت گرد اور ایک سویلین کی موت کا ون پلس ون تناسب قائم ہے۔مگر نیتن یاہو حسبِ معمول جھوٹ بول رہے تھے۔کیونکہ فوجی قیادت نے شروع سے ہی اپنے فیلڈ مینوئل میں طے کر لیا تھا کہ اگر ایک جونئیر جنگجو کو ہدف بناتے ہوئے پندرہ سے بیس سویلینز یا ایک سینیر جنگجو کے ساتھ پچاس تک سویلینز مر جائیں تو سودا مہنگا نہیں۔
مگر ہلاکتوں کی نوعیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ مارنے والے بھی کسی خاص شخص کو نشانہ بنانے کے بجائے اندھا دھند مار رہے ہیں اور قاتل فوج کو بھی ٹھیک سے نہیں معلوم کہ کتنے انسان مارے ہیں۔
مثلاً جنگ شروع ہونے کے ایک ماہ بعد ( نومبر دو ہزار تئیس ) اسرائیلی سیکیورٹی ذرائع نے غزہ میں بیس ہزار جنگجو ختم کرنے کا دعوی کیا۔اگلے ہی مہینے یہ تعداد کم ہو کے سات ہزار آٹھ سو ساٹھ جنگجو ہو گئی۔فروری دو ہزار چوبیس میں فوج نے دعوی کیا کہ اس نے اب تک تیرہ ہزار جنگجو مار دیے ہیں۔لیکن ایک ہفتے بعد ہی تیرہ ہزار میں سے ایک ہزار کم کر دیے۔اگست دو ہزار چوبیس میں دعوی کیا گیا کہ اب تک سترہ ہزار جنگجو مار دیے گئے ہیں مگر دو ماہ بعد اکتوبر میں کہا گیا کہ چودہ ہزار مرے ہیں۔ ظاہر ہے جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔
اسرائیلی ملٹری انٹیلی جینس کے ایک زریعے نے بتایا کہ اگر مختلف بریگیڈ کمانڈروں کے دعووں کو تسلیم کر لیا جائے تو اب تک انھوں نے جنگجوؤں کی اصل تعداد سے بھی دو سو گنا زائد جنگجو مار دیے ہیں۔بظاہر اسرائیلی اسٹیبلشمنٹ اموات کے بارے میں فلسطینی وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کو ہمیشہ چیلنج کر کے محض پروپیگنڈہ قرار دیتی ہے۔مگر عسکری اور انٹیلی جینس ذرائع ان اعداد و شمار کو نہ صرف درست سمجھتے ہیں بلکہ ان ہی کی روشنی میں اپنی رپورٹیں اور تخمینے بھی مرتب کرتے ہیں۔
چلئے مان لیتے ہیں کہ اسرائیلی قیادت کے جھوٹ کے برعکس اسرائیلی انٹیلی جینس کے کلاسیفائڈ ڈیٹا نے حقیقت بیان کر دی ہے کہ اب تک مرنے والوں میں سے صرف سترہ فیصد ایسے ہیں جو قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہونے کے سبب واجب القتل تھے۔مگر یہ سچ معلوم ہونے کے بعد کیا کریں ؟ اس حقیقت کا اچار ڈالیں ؟
دنیا کی کتنی ریاستیں ہیں جو عالمی عدالتِ انصاف اور اس کے فیصلوں کا دم بھرتی ہیں مگر اس عدالت نے جن اسرائیلیوں کو اشتہاری قرار دے رکھا ہے وہ دندناتے ہوئے دنیا بھر میں گھوم رہے ہیں اور کوئی ایک ملک بھی ایسا نہیں جو ان اشتہاریوں کو اپنی بری ، بحری یا فضائی حدود سے گذرتے ہوئے حراست میں لے کر دی ہیگ میں قائم عدالت کے حوالے کر سکے۔چنانچہ اسرائیل نے تراسی فیصد سویلینز مارے یا سو فیصد جنگجو قتل کیے۔اس انکشاف سے دنیا کو کیا فرق پڑتا ہے ؟
(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسرائیلی فوج انٹیلی جینس رہے ہیں ہیں اور کر لیا ہیں جو کے لیے اور اس
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
سری نگر(آئی پی ایس )مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق رپورٹ کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک 96 ہزار 499 افراد شہید جبکہ ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا.اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ اور ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم ہوئے۔ جولائی 2026 میں بھارتی فورسز کے بڑے پیمانے پر کریک ڈان کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا اور متعدد مکانات مسمار کیے گئے۔
کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق جولائی 2026 میں بھارتی فوج، پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں سرچ اور محاصرے کی کارروائیاں تیز کر دیں۔ کلگام، پلوامہ، شوپیاں، اسلام آباد (اننت ناگ)، سرینگر، گاندربل، بارہمولہ، بڈگام، کپواڑہ، بانڈی پورہ، اونتی پورہ اور ہندواڑہ سمیت کئی علاقوں میں گھروں پر چھاپے مارے گئے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیری نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ شہریوں کو سخت تلاشی، نگرانی اور نقل و حرکت کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارتی حکام کے مطابق سرچ آپریشنز کے دوران ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا اور مزید کارروائیاں جاری رہیں گی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ جولائی میں ضلع اسلام آباد (اننت ناگ) میں بھارتی پولیس اہلکار کی ہلاکت کے بعد وادی بھر میں کریک ڈان مزید تیز کیا گیا۔ اس دوران بھارتی انتظامیہ نے بیج بہاڑہ میں عادل ٹھوکر اور حسن پورہ میں ہارون گنائی کے مکانات بھی مسمار کردیے۔
اعداد و شمار کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک مقبوضہ کشمیر میں مجموعی طور پر 96 ہزار 499 افراد شہید ہوئے، جن میں 7 ہزار 419 مبینہ حراستی یا جعلی مقابلوں میں شہادتیں شامل ہیں۔ اس دوران ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے گئے، جبکہ ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ، ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم اور 11 ہزار 278 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنیں۔ رپورٹ کے مطابق 5 اگست 2019 سے جولائی 2026 تک ایک ہزار 66 افراد شہید ہوئے، جن میں 295 مبینہ حراستی شہادتیں یا جعلی مقابلے شامل ہیں۔ اس عرصے میں 2 ہزار 702 افراد تشدد یا شدید زخمی ہوئے، 37 ہزار 210 سے زائد گرفتاریاں ہوئیں، جبکہ ایک ہزار 211 سے زائد مکانات، دکانوں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ اس دوران 84 خواتین بیوہ، 234 بچے یتیم اور 148 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا شکار ہوئیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرلاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی اگلی خبرجدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم