پاکستان پر قرضے اور واجبات 94ہزار 197ارب روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
پاکستان پر قرضے اور واجبات 94ہزار 197ارب روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے WhatsAppFacebookTwitter 0 8 September, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)پاکستان پرقرضوں کے سارے ریکارڈ ٹوٹ گئے، ملک پر قرضے اور واجبات 94 ہزار 197 ارب روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے۔
تفصیلات کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے جون 2025تک ملک پر قرضوں اور واجبات کا ڈیٹا جاری کر دیا، قرضے اور واجبات جی ڈی پی کے 82.
اسٹیٹ بینک کے مطابق جون 2025 تک پاکستان پر قرضے اور واجبات جی ڈی پی کے 82 اعشاریہ ایک فیصد ہوگئے۔مرکزی بینک کی دستاویز کے مطابق جون 2024 تک ملک پر قرضوں اور واجبات کاحجم 85 ہزار 457 ارب روپے تھا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپی ٹی آئی کارکنان کے تشدد کے شکار صحافی نے تھانے میں علیمہ خان کیخلاف درخواست جمع کرادی پی ٹی آئی کارکنان کے تشدد کے شکار صحافی نے تھانے میں علیمہ خان کیخلاف درخواست جمع کرادی سونا، تانبہ و دیگر نایاب دھاتیں نکالنے کیلئے حکومت اور امریکی کمپنیوں کے درمیان ایم او یو پر دستخط عمران خان کیخلاف ہرجانے کا کیس، وزیراعظم ویڈیو لنک پر جرح کیلئے طلب قازقستان کے نائب وزیراعظم وفد کے ہمراہ 2 روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے خیبرپختونخوا اسمبلی، گستاخ صحابہ کو انٹرپول کے ذریعے گرفتار کرکے وطن واپس لانے کی قرارداد منظور کچے کے ڈاکو سیلابی صورتحال کے پیش نظر ہتھیار ڈالنا چاہیں تو قانون پر عمل کیا جائے، وزیرداخلہ سندھ ضیا لنجارCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پاکستان پر قرضے اور واجبات ارب روپے کی پہنچ گئے کے مطابق ملک پر
پڑھیں:
پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (Pakistan Institute of Development Economics) نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے ملک میں کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی ہے، جسے موجودہ معاشی حالات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں ایک اہم پالیسی تجویز قرار دیا جا رہا ہے۔
پائیڈ کی جانب سے جاری کردہ شواہد پر مبنی فریم ورک کے مطابق کم از کم اجرت میں اضافہ صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک وسیع معاشی اور سماجی ضرورت ہے، جو گھریلو سطح پر قوتِ خرید، غربت میں کمی، غیر رسمی روزگار کے رجحانات اور مجموعی معاشی استحکام پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر مالی سال 2026-27 کے لیے کم از کم اجرت 45 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی جاتی ہے تو یہ موجودہ 40 ہزار روپے کی سطح کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافہ ہوگا۔ اس اضافے کو محنت کش طبقے کی مالی مشکلات میں کمی اور ان کی معاشی استعداد بہتر بنانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پائیڈ کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کم از کم اجرت کی پالیسی کو محض لیبر ڈپارٹمنٹ تک محدود نہیں رکھا جا سکتا، کیونکہ اس کا تعلق براہ راست عام شہریوں کی روزمرہ زندگی، مہنگائی کے دباؤ اور مقامی مارکیٹ کی طلب سے جڑا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اجرت میں مناسب اضافہ نہ صرف مزدور طبقے کے معیارِ زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے بلکہ پیداواری عمل میں بھی مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔
مزیدپڑھیں:حکومت کا ریئل اسٹیٹ پیکیج تیار، فروخت پر ٹیکس 4.5 فیصد سے 1.5 فیصد تک لانے کی تجویز
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے جولائی سے اپریل تک اوسط مہنگائی کی شرح تقریباً 6.19 فیصد رہی، تاہم اپریل 2026 میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی بڑھ کر 10.9 فیصد تک پہنچ گئی، جس نے عام شہریوں کی قوتِ خرید کو مزید متاثر کیا۔
موجودہ معاشی صورتحال میں اجرتوں میں اضافہ ایک متوازن پالیسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ کاروباری لاگت اور روزگار کے مواقع پر بھی اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔
پائیڈ کی سفارش کے بعد اب یہ معاملہ حکومتی سطح پر غور کے لیے پیش کیا جائے گا، جہاں حتمی فیصلہ بجٹ پالیسی کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔