ایک ہزار 300 سے زائد اداکاروں نے اسرائیلی فنکاروں کے ساتھ کام نہ کرنے کا عزم کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
بین الاقوامی فلم و ٹی وی صنعت کے کم از کم 1 ہزار 300 اداکاروں، ہدایت کاروں اور دیگر کارکنان نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایسے اسرائیلی فلمی اداروں، فیسٹیولز، براڈکاسٹرز اور پروڈکشن کمپنیوں کے ساتھ کام نہیں کریں گے جنہیں فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی اور اپارتھائیڈ میں ملوث قرار دیا گیا ہے۔ اس عہد نامے کو فلم ورکرز فار فلسطین نامی گروپ نے جاری کیا ہے اور اس میں ہالی ووڈ اور یورپ کے کئی معروف نام شامل ہیں۔
عہد نامے میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی فلم کمیونٹی کو فلسطینی فلم سازوں کی اپیل کا جواب دیتے ہوئے لاپرواہی اور سازش کی صورت حال کو ختم کرنے کے لیے قدم اٹھانا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: پاپ اسٹار اولیویا روڈریگو کا فلسطین میں جاری مظالم پر گہرے دکھ کا اظہار
گروپ نے انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس (آئی سی جے) کے اس فیصلے کا حوالہ دیا ہے جس میں غزہ میں نسل کشی کے ممکنہ خطرے کی نشاندہی کی گئی اور کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے خلاف بعض بین الاقوامی تشویشات سامنے آئیں ہیں۔ عہد نامے میں طے کیا گیا ہے کہ سائن اپ کرنے والے ارکان ایسے اداروں کے ساتھ فلمیں نہ دکھائیں، ایونٹس میں شرکت نہ کریں اور نہ ہی پروڈکشن یا شراکت داری کریں جو سرکاری یا حکومت سے منسلک ہوں اور جنہیں ملوث سمجھا جاتا ہے۔
نمایاں دستخط کنندگانعہد نامے پر دستخط کرنے والوں میں مارک رُوفالو، خاویر بارڈیم، اولیویا کولمین، اِلانا گلیزر، اندرا ورما، میری الزبتھ وِن اسٹڈ، پاپا ایسیڈو، ایمی لیو ووڈ، ایمبیکا موڈ، الیسا میلانوں اور آیو ایڈیبیری سمیت متعدد بین الاقوامی نام شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ہدایت کاروں اور فلم سازوں میں اوّا ڈیو ورنائے، یورگوس لانتھی موس، اسف کپڈیا، ایما سیلگ مین، بوٹس رائلی اور دیگر اہم شخصیات بھی شامل ہیں، جنھوں نے ثقافتی میدان میں اس اقدام کو اخلاقی ذمہ داری قرار دیا ہے۔
کس کو ہدف بنایا گیا ہے اور کیوں؟گروپ نے وضاحت کی ہے کہ یہ پابندی افراد کے خلاف نہیں بلکہ ادارہ جاتی شمولیت کے خلاف ہے۔ یعنی وہ اس پر زور دے رہے ہیں کہ اداکار یا فلم ساز افراد کے ساتھ کام جاری رکھا جاسکتا ہے، مگر وہ ایسے فیسٹیولز، سینما گھروں، براڈکاسٹنگ اداروں اور پروڈکشن ہاؤسز کے ساتھ متعلقہ تعاون کو مسترد کریں گے جو مبینہ طور پر اسرائیلی حکومت کے ساتھ شراکت یا وائٹ واشنگ کا حصہ بنتے ہیں۔
مخصوص ادارے اور فیسٹیولز جن کا نام لیا گیامہم نے واضح طور پر متعدد بڑے اسرائیلی فیسٹیولز کا حوالہ دیا ہے جن میں یروشلم فلم فیسٹیول، حیفا انٹرنیشنل فلم فیسٹیول، ڈاکاویوو اور ٹی ایل وی فیسٹ شامل ہیں، کہا گیا ہے کہ یہ ادارے بعض اوقات ریاستی حمایت یا شراکت میں سرگرم ہیں اور اس وجہ سے ان پر پابندی کے مطالبات اٹھائے گئے ہیں۔ گروپ نے ساتھ ہی کہا ہے کہ تمام اسرائیلی ادارے خود بخود ملوث نہیں سمجھے جائیں گے اور ہر کیس کا سیاق و سباق دیکھا جائے گا۔
تاریخی حوالہ اور تحریک کا پس منظرعہد نامے میں ماضی کے ثقافتی بائیکاٹ، خصوصاً ساؤتھ افریقہ میں اپارتھائیڈ کے خلاف فلم سازوں کے اتحاد سے متاثر ہونے کا ذکر ہے۔ اسی طرح حالیہ مہینوں میں فنئی و ثقافتی شعبے میں اسرائیل کے خلاف دوسرے بائیکاٹس اور احتجاجی خطوط بھی سامنے آئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہالی ووڈ کے بڑے اداکار کس منفرد انداز میں غزہ کے لیے امداد جمع کر رہے ہیں؟
مثال کے طور پر مئی میں برطانیہ و آئرلینڈ کے قریب 380 ادیبوں نے کھلا خط جاری کر کے غزہ میں قتلِ عام اور امدادی رسائی کے مسائل کی مذمت کی تھی، اور اسی طرح رائل بیلے اینڈ اوپیرا نے داخلی دباؤ اور عملے کے احتجاج کے بعد تل ابیب میں 2026 کی متوقع پروڈکشن منسوخ کر دی تھی۔ ان پیش رفتوں نے ثقافتی حلقوں میں اس نئے عہد نامے کی راہ ہموار کی۔
عالمی اور صنعت پر ممکنہ اثراتتجزیہ کار کہتے ہیں کہ یہ عہد نامہ فلم فیسٹیول سرکٹس، پروڈکشن پارٹنرشپس اور ترسیلی چینلز پر اثر انداز ہوسکتا ہے، خاص طور پر جب نامور فنکار اور ہدایت کار اس میں شامل ہوں۔ فلم انڈسٹری میں شراکت داری، فنڈنگ اور نمائش کے روایتی راستے اگر بند ہوئے تو اس کے متبادل راستوں کی تلاش اور سیاسی، اخلاقی اور تجارتی بحثیں شدت اختیار کریں گی۔ عہد نامے کے حامیوں کا مؤقف یہ ہے کہ ثقافتی صنعتوں کی منصفانہ شمولیت اور انسانی حقوق کے معیار کو مقدم رکھنا لازم ہے، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ فن اور ثقافت کو سیاسی عمل سے الگ رکھنا چاہیے۔
فلم ورکرز فار فلسطین کا یہ تازہ اقدام بین الاقوامی ثقافتی میدان میں اسرائیل کے خلاف بڑھتے ہوئے احتجاجات اور بائیکاٹس کا حصہ ہے اور اس نے فلم و ٹی وی انڈسٹری کے اندر ایک واضح اخلاقی بحث کو جنم دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بریڈ پٹ، واکین فینکس اور رونی مارا کی غزہ پر مبنی فلم ’دی وائس آف ہند رجب‘ میں شمولیت
عہد نامے نے واضح کیا ہے کہ عملی طور پر اس کا ہدف ادارہ جاتی شمولیت ہے نہ کہ افراد کی شناخت، اور آئندہ ہفتوں میں اس کی کارروائی اور اس کے اثرات عالمی سطح پر زیرِ بحث رہنے کی توقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news آیو ایڈیبیری اسرائیل اِلانا گلیزر بائیکاٹ بین الاقوامی اداکار خاویر بارڈیم عہد نامہ فلسطین مارک رُوفالو مظالم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آیو ایڈیبیری اسرائیل ا لانا گلیزر بائیکاٹ بین الاقوامی اداکار خاویر بارڈیم فلسطین مظالم بین الاقوامی گیا ہے کہ شامل ہیں کے ساتھ کے خلاف گروپ نے اور اس دیا ہے
پڑھیں:
پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (Pakistan Institute of Development Economics) نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے ملک میں کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی ہے، جسے موجودہ معاشی حالات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں ایک اہم پالیسی تجویز قرار دیا جا رہا ہے۔
پائیڈ کی جانب سے جاری کردہ شواہد پر مبنی فریم ورک کے مطابق کم از کم اجرت میں اضافہ صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک وسیع معاشی اور سماجی ضرورت ہے، جو گھریلو سطح پر قوتِ خرید، غربت میں کمی، غیر رسمی روزگار کے رجحانات اور مجموعی معاشی استحکام پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر مالی سال 2026-27 کے لیے کم از کم اجرت 45 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی جاتی ہے تو یہ موجودہ 40 ہزار روپے کی سطح کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافہ ہوگا۔ اس اضافے کو محنت کش طبقے کی مالی مشکلات میں کمی اور ان کی معاشی استعداد بہتر بنانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پائیڈ کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کم از کم اجرت کی پالیسی کو محض لیبر ڈپارٹمنٹ تک محدود نہیں رکھا جا سکتا، کیونکہ اس کا تعلق براہ راست عام شہریوں کی روزمرہ زندگی، مہنگائی کے دباؤ اور مقامی مارکیٹ کی طلب سے جڑا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اجرت میں مناسب اضافہ نہ صرف مزدور طبقے کے معیارِ زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے بلکہ پیداواری عمل میں بھی مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔
مزیدپڑھیں:حکومت کا ریئل اسٹیٹ پیکیج تیار، فروخت پر ٹیکس 4.5 فیصد سے 1.5 فیصد تک لانے کی تجویز
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے جولائی سے اپریل تک اوسط مہنگائی کی شرح تقریباً 6.19 فیصد رہی، تاہم اپریل 2026 میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی بڑھ کر 10.9 فیصد تک پہنچ گئی، جس نے عام شہریوں کی قوتِ خرید کو مزید متاثر کیا۔
موجودہ معاشی صورتحال میں اجرتوں میں اضافہ ایک متوازن پالیسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ کاروباری لاگت اور روزگار کے مواقع پر بھی اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔
پائیڈ کی سفارش کے بعد اب یہ معاملہ حکومتی سطح پر غور کے لیے پیش کیا جائے گا، جہاں حتمی فیصلہ بجٹ پالیسی کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔