کراچی: سپر ہائی وے کے قریب گڈاپ ندی میں ہائی روف میں سوار 4 افراد ڈوب گئے
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
شہر قائد میں شدید بارشوں کے باعث تھڈو ڈیم اوور فلو کر گیا، جس کے بعد سیلابی پانی کا طاقتور ریلا ایم 9 موٹروے تک پہنچ گیا جب کہ کراچی سپر ہائی وے کے قریب گڈاپ ندی میں ہائی روف میں سوار 4 افراد ڈوب گئے۔
رپورٹ کے مطابق سپر ہائی وے پر واقع الحبیب ریسٹورینٹ کے اطراف سڑک زیر آب آ گئی ہے، جس کی وجہ سے کراچی سے حیدرآباد اور حیدرآباد سے کراچی دونوں اطراف کی ٹریفک مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے۔
نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس نے تصدیق کی ہے کہ پانی کی سطح بلند ہو کر موٹروے کے کنارے سے ٹکرا چکی ہے، اور سپر ہائی وے کا بڑا حصہ زیر آب آ گیا ہے۔
اس کے پیشِ نظر ایم 9 کے درمیان موجود کرش بیرئیر کو ہٹا کر پانی کے بہاؤ کا راستہ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
سپر ہائی کے اطراف کی متعدد رہائشیوں آبادیوں میں سیلابی ریلا داخل ہو گیا ہے اور متعدد مقامات پر 4 تا 5 فٹ پانی جمع ہو گیا ہے جب کہ سپر ہائی وے کے قریب گڈاپ ندی میں ہائی روف میں سوار 4 افراد ڈوب گئے۔
ایدھی حکام نے بتایا کہ ایدھی بحری خدمات کی ٹیم نے ہائی روف میں سوار خاتون کی لاش نکال لی ہے۔
ایدھی حکام کا کہنا تھا کہ مجموعی طور پر ہائی روف میں سوار 4 افراد کے ڈوبنے کی اطلاع ملی تھی، مزید افراد کی تلاش میں سرچ آپریشن جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہائی روف میں سوار 4 افراد سپر ہائی وے
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔