حکومت کا صنعتکاروں کو نیب، ایف آئی اے اور ایف بی آر سے تحفظ دینے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
حکومت کا صنعتکاروں کو نیب، ایف آئی اے اور ایف بی آر سے تحفظ دینے کا فیصلہ WhatsAppFacebookTwitter 0 10 September, 2025 سب نیوز
اسلام آباد: حکومت نے مجوزہ صنعتی پالیسی کے تحت صنعتی بجلی کے ٹیرف سے کراس سبسڈی ختم کرنے اور پیک ریٹس کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ برآمدات میں اضافہ کیا جا سکے۔
حکومت نے قوانین میں تبدیلی لانے کا بھی فیصلہ کیا ہے، جن میں ایک جامع انسالوینسی (دیوالیہ پن سے تحفظ) قانون متعارف کرانا شامل ہے۔
وزیرِاعظم کی سطح پر یہ طے پایا ہے کہ صنعتکاروں کو نیب، ایف آئی اے اور ایف بی آر کے براہِ راست رابطے سے محفوظ رکھا جائے گا۔ اسی مقصد کے لیے ایس ای سی پی ایکٹ 1947 کی دفعہ 41-B اور دفعہ 42-A میں ترمیم کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے یہ لازمی ہوگا کہ وہ کسی بھی کارروائی سے قبل ایس ای سی پی کی اجازت حاصل کریں۔
ترمیمی مسودے کے مطابق، ریگولیٹڈ اداروں کے خلاف انکوائری، تحقیقات یا کارروائی خواہ وہ اسٹاک ایکسچینجز ہوں، سینٹرل ڈپازٹریز، کلیئرنگ ہاؤسز، نان بینکنگ فنانس کمپنیاں (روایتی یا ڈیجیٹل)، انشورنس کمپنیاں یا بروکرز—بغیر ایس ای سی پی کے ریفرنس کے کسی وفاقی یا صوبائی تحقیقاتی ادارے کی طرف سے نہیں کی جا سکے گی۔
اس کے علاوہ اگر کوئی معاملہ پہلے ہی ایس ای سی پی کے سامنے ہو تو کسی بھی دوسرے ادارے کے پاس اس پر کارروائی کا اختیار نہیں ہوگا۔
ترمیمی مسودہ غیر ملکی سرمایہ کاروں (بشمول نائیکوپ ہولڈرز) کو بھی واضح قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے تاکہ بیرونی اداروں کی من مانی مداخلت سے بچاؤ یقینی بنایا جا سکے۔
حکومتی ذرائع نے دی نیوز کو بتایا کہ”پاور ڈویژن صنعتی بجلی کے ٹیرف سے کراس سبسڈی ختم کرے گا اور پیک ریٹس بھی منسوخ کرے گا۔”مجوزہ صنعتی پالیسی کا مسودہ جلد جاری ہونے والا ہے۔
اس کے مطابق، وزارتِ تجارت نے وزارتِ خزانہ کی مشاورت اور وفاقی کابینہ کی منظوری سے برآمد کنندگان کے لیے مقامی ٹیکس و لیویز کے ڈرا بیک (DLTL) اسکیم شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
ایف بی آر نے بھی اربوں روپے کے پھنسے ہوئے ریفنڈز کی ادائیگی کا فیصلہ کیا ہے، جن میں سیلز ٹیکس (موخر ریفنڈ پیمنٹ آرڈرز ، کسٹمز ریبیٹس، انکم ٹیکس اور صوبائی ٹیکس شامل ہیں۔ سیلز ٹیکس ریفنڈز بروقت ادا کیے جائیں گے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس عمل کو مزید تیز بنایا جائے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسی پیک فیز ٹو پاکستان اور چین کے تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا نادر موقع ہے، عاطف اکرام شیخ سی پیک فیز ٹو پاکستان اور چین کے تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا نادر موقع ہے، عاطف اکرام شیخ قطر پر اسرائیل کے حملے کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ہوگیا وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین کے وارنٹ گرفتاری جاری بھارت نے ستلج میں پھر پانی چھوڑ دیا، ہریکے اور فیروز پور انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ایپل نے آئی فون 17 سیریز متعارف کرادی، اب تک کا سب سے پتلا اسمارٹ فون بھی شامل قطر پر حملے کا حکم کس نے دیا؟ ڈونلڈ ٹرمپ نے اصل ذمہ دار کا نام بتادیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ایس ای سی پی فیصلہ کیا کا فیصلہ کیا ہے کے لیے ایف بی
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔