سری لنکا اور افغانستان کے کپتانوں کی مصروف ترین شیڈول پر تنقید
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
ایشیا کپ کے آغاز سے پہلے سری لنکا کے کپتان چارتھ اسالنکا اور افغانستان کے کپتان راشد خان نے مسلسل میچز اور سفر کے سخت شیڈول پر سوال اٹھا دیا۔
اسالنکا نے کہا کہ زمبابوے میں دو دن میں دو میچز کھیلنے اور پھر براہ راست دبئی پہنچنے سے کھلاڑیوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے، پے درپے میچز کھیل کر فوراً سفر کرنا بہت مشکل ہے، کھلاڑیوں کو کم از کم دو دن کا آرام ملنا چاہیے۔
راشد خان نے بھی تسلیم کیا کہ شیڈول مثالی نہیں ہے، مگر شکایت کرنے کے بجائے توجہ کارکردگی پر ہونی چاہیے، اگر ہم سفر یا گرمی کی شکایت کریں تو کھیل پر اثر پڑے گا، پروفیشنل کرکٹرز کو ہر حال میں 100 فیصد دینا ہوتا ہے۔
سری لنکا کو اپنے پہلے میچ سے قبل چار دن کا وقفہ ملا ہے، جبکہ افغانستان صرف 48 گھنٹے بعد ہانگ کانگ کے خلاف میدان میں اترا تھا۔
گرمی اور تھکن کے اس ماحول میں کھلاڑیوں کی تازگی ٹورنامنٹ کے نتائج پر اہم اثر ڈال سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔