اوریکل کے شریک بانی لیری ایلیسن نے ایلون مسک کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کے امیر ترین شخص کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔

ایلیسن نے بلومبرگ بلینیئرزانڈیکس میں ایلون مسک کی تقریباً ایک سالہ برتری کا خاتمہ کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کی ایلون مسک کے خلاف سخت اقدام کی تیاری، ڈی پورٹ کرنے کی افواہیں زیرگردش

ایلیسن کی دولت میں صرف ایک دن میں حیران کن طور پر 101 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا، جب اوریکل کارپوریشن نے اپنی سہ ماہی رپورٹس جاری کیں۔

جنہوں نے وال اسٹریٹ کی توقعات سے بڑھ کر نتائج دکھائے اور مستقبل میں زبردست آمدنی کی پیشگوئی کی، یہ اضافہ انڈیکس کی تاریخ میں ایک دن میں ریکارڈ کیا گیا سب سے بڑا فائدہ ہے۔

اوریکل کی سی ای او سفرا کیٹز نے حالیہ سہ ماہی کو حیرت انگیز قرار دیتے ہوئے بتایا کہ کمپنی نے 3 مختلف صارفین کے ساتھ اربوں ڈالرز مالیت کے 4 معاہدے کیے ہیں۔

مزید پڑھیں: بانی فیس بک مارک زکربرگ دنیا کے تیسرے امیر ترین شخص بن گئے

ان کا کہنا تھا کہ کمپنی کی کلاؤڈ بزنس آمدنی اس مالی سال میں 77 فیصد بڑھ کر 18 ارب ڈالر تک پہنچے گی، جبکہ آنے والے برسوں میں یہ بالترتیب 32 ارب، 73 ارب، 114 ارب اور 144 ارب ڈالر تک جا سکتی ہے۔

اب یہ کوئی راز نہیں کہ ان کے اس اعلان کے بعد کمپنی کے شیئرز کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

10 ستمبر 2025 تک ایلیسن کی مجموعی دولت 393 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جو مسک کی 385 ارب ڈالر کی دولت سے آگے نکل گئی ہے۔

یہ اضافہ اوریکل کے حصص میں 40 فیصد کے غیر معمولی اضافے کے بعد ممکن ہوا، جس کی بڑی وجہ کمپنی کی آرٹیفیشل انٹیلیجنس یعنی مصنوعی ذہانت اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ میں جارحانہ سرمایہ کاری ہے۔

مزید پڑھیں: ایلون مسک کا دورہ بھارت منسوخ، انڈیا کو کتنے ارب ڈالر نقصان کا خدشہ؟

81  سالہ ایلیسن اوریکل کے 41 فیصد شیئرز کے مالک ہیں، یہ کمپنی انہوں نے 1977 میں ایک آئی بی ایم ریسرچ پیپر سے متاثر ہو کر قائم کی تھی۔

ان کی قیادت میں اوریکل ایک چھوٹے اسٹارٹ اپ سے بڑھ کر عالمی ٹیکنالوجی کی ایک بڑی طاقت بن چکی ہے، جو انٹرپرائز ڈیٹا مینجمنٹ سسٹمز، کلاؤڈ انفرا اسٹرکچراور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آرٹیفیشل انٹیلیجنس امیر ترین شخص اوریکل ایلون مسک بلومبرگ بلینیئرزانڈیکس کلاؤڈ کمپیوٹنگ لیری ایلیسن.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا رٹیفیشل انٹیلیجنس اوریکل ایلون مسک لیری ایلیسن ایلون مسک ارب ڈالر

پڑھیں:

دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم  نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔

ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔

عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔

ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • 99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • سیاستدان امیر دوستوں کو مراعات دینا، غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں: بلاول
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • دعا گو ہیں فیلڈ مارشل کی خلیج امن کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی