نیپال میں جین زی انقلاب: سابق چیف جسٹس سوشیلا کرکی نئی وزیراعظم بننے کو تیار
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
کٹھمنڈو: نیپال کی سپریم کورٹ کی سابق چیف جسٹس سوشیلا کرکی نے عبوری حکومت سنبھالنے پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔
گزشتہ ہفتے نیپالی حکومت نے سوشل میڈیا ویب سائٹس پر پابندی عائد کی تھی جس کے بعد نوجوانوں نے احتجاجی تحریک شروع کی جسے "جین زی انقلاب" کا نام دیا گیا۔
مظاہروں کے دوران ملک بھر میں شدید ہنگامہ آرائی ہوئی، 30 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے جبکہ کئی سرکاری عمارتوں کو آگ لگا دی گئی۔
مظاہرین کی تحریک سے وابستہ رہنماؤں نے فوجی قیادت سے ملاقات کی جس میں مستقبل کے سیاسی لائحہ عمل پر بات چیت کی گئی۔ فوج نے فسادات پر قابو پانے کے بعد امن بحال کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
جین زی مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ ملک میں قبل از وقت انتخابات کرائے جائیں۔ اسی دوران انہوں نے سوشیلا کرکی کا نام عبوری حکومت کی قیادت کے لیے تجویز کیا جس پر انہوں نے آمادگی ظاہر کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔