نیپال میں جین زی انقلاب: سابق چیف جسٹس سوشیلا کرکی نئی وزیراعظم بننے کو تیار
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
کٹھمنڈو: نیپال کی سپریم کورٹ کی سابق چیف جسٹس سوشیلا کرکی نے عبوری حکومت سنبھالنے پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔
گزشتہ ہفتے نیپالی حکومت نے سوشل میڈیا ویب سائٹس پر پابندی عائد کی تھی جس کے بعد نوجوانوں نے احتجاجی تحریک شروع کی جسے "جین زی انقلاب" کا نام دیا گیا۔
مظاہروں کے دوران ملک بھر میں شدید ہنگامہ آرائی ہوئی، 30 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے جبکہ کئی سرکاری عمارتوں کو آگ لگا دی گئی۔
مظاہرین کی تحریک سے وابستہ رہنماؤں نے فوجی قیادت سے ملاقات کی جس میں مستقبل کے سیاسی لائحہ عمل پر بات چیت کی گئی۔ فوج نے فسادات پر قابو پانے کے بعد امن بحال کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
جین زی مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ ملک میں قبل از وقت انتخابات کرائے جائیں۔ اسی دوران انہوں نے سوشیلا کرکی کا نام عبوری حکومت کی قیادت کے لیے تجویز کیا جس پر انہوں نے آمادگی ظاہر کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔